|
سرینگر/۱۲مئی................ فوج نے سانبہ جھڑپ میں فرار جنگجو کوہلاک کرنے کادعویٰ کیا ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق سانبہ جھڑپ کے دوران فرار شدہ ایک جنگجو جوکہ جھاڑیوں میں روپوش تھا ۔ فوجی اہلکاروں نے سانبہ کے قریب کٹلی نامی دیہات میں گولی مار کر ہلاک کردیا ۔ اس طرح اس جھڑپ میں ہلاک ہونے والے جنگجووں کی تعداد ۳ہوگئی ہے۔ ان کا تعلق لشکرطیبہ سے بتایا گیا ہے۔ جھڑپ کے دوران ۲فوجی اہلکاربھی ہلاک ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق جموں کے سرحدی قصبہ سانبہ میں پیش آئے واقعہ کے خلاف جموں خطے میں ہڑتال کی گئی اس دوران دکانیں کاروباری ادارے ، تعلیمی ادارے، سکول اور کالج بھی بند رہے سرکاری دفاتر تالہ بند رہے، ٹرانسپورٹ سروس بھی معطل رہی۔
لوگ زیادہ تر گھروں میں ہی رہے۔ ہڑتال کے پیش نظر جموں میں سیکورٹی کے غےر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔ اس کے باوجود بی جے پی اور اس کی ہم خیال جماعتوں نے ریلیاں نکال کر کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے اور ریاستی حکومت کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا اس کے باوجود جموں میںحالات پُر امن رہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر اشوک کھجوریہ نے کہا کہ لوگوں نے ہڑتال کی کال پر مکمل عمل کیا اس دوران تجارتی سرگرمیاں ٹھپ رہی۔ پنتھرس پارٹی کے پریذیڈنٹ پروفیسر بھیم سنگھ نے رابطہ کرنے پر بتا یا کہ جموں کشمےر میں لوگ امن چاہتے ہیں۔ وہ قتل و غارت گری کے خلاف ہیں ریاست میں ملی ٹنسی کیلئے نیشنل کانفرنس اور کانگریس ذمہ دار ہیں۔ جبکہ پی ڈی پی اس کی دم ہے انہوں نے اسے ملی ٹنسی کے نام پر دکانداری قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت بے بس ہے حالات ان کے کنٹرول سے باہر ہیں ان لوگوں کو پاکستان سے ہدایات مل رہی ہیں ۔ نئی حکومت کے قیام میں آتے ہی عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پاکستان پہچ گئےں۔
یہ لوگ ریاستی اسمبلی میں عوامی نمائندے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن پاکستان کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دیانتدار لیڈر نہیں چاہتے، اگر ریاست میں پھر سے امن لوٹ آئے تو ایسے لوگوں کو پی ایس او سیکورٹی اور دےگر مراعات کہاں حاصل ہو سکتی ہے یہ ملی ٹنسی کی آڑ میں لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ ادھر چک سری پٹن میں ۲۹آرآر سے وابستہ فوجی اہلکاروں کے بندوق سے ڈیوٹی کے دوران گولی نکلی جس سے رگھوناتھن نامی اہلکار زخمی ہوگیا جسے فوراً اسپتال پہنچایا گیا۔ لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس رجسٹرکرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔
|