Untitled Document
Google
Web
mashriqkashmir.com
Untitled Document
اختیارات نہیں ملے تو اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے : پنچایت کانفرنس

سرینگر/۱۹ستمبر 
پنچوں اور پنچایتوں نے حکومت کو۲۸ستمبر تک اختیارات منتقل کرنے کی مہلت دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا انہیں کیا گیا تو ۲۹ستمبر سے اسمبلی کی طرف مارچ شروع کیا جائیگا ۔
چیرمین آل جموں وکشمیر پنچایت کانفرنس فضل حسین خان نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اگر مخلوط سرکار نے اگلے ۱۰روز کے اندر پنچایتوں کو اختیارات منتقل کرنے کے حوالے سے عملی اقدامات نہ اٹھائے تو ۲۹ستمبر کو ریاست بھر کے ہزاروں منتخب سرپنچ اور پنچ سرینگرمیں جمع ہوکر پر امن جلوس کی صورت میں اسمبلی کمپلیکس کی طرف مارچ کریں گے ’’اور تب تک اسمبلی کمپلیکس کے باہر دھرنا دیکر بیٹھ جائیں گے جب تک سرکار کوئی واضح اعلان نہیں کریگی ۔‘‘
خان نے کہا کہ عید الفطر سے چند روز قبل وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے منتخب سرپنچوں اور پنچوں کو اختیارات کی منتقلی کے ساتھ ساتھ ان کی عوامی نمائندگی کے حوالے سے جو بیان دیا تھا وہ ہمارے لئے حوصلہ افزاء تھا لیکن بعدازاں ریاستی سرکار نے اس اعلان کو عملی جامہ پہنانے کی طرف کوئی اقدامات نہیں اٹھائے ۔انہوں نے کہا ’’ جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم اپنے اختیارات سے بے خبر ہیں‘ جو ہمارے لئے تذلیل کا بار بار موجب بن رہا ہے ‘ ہم اپنے عوام کے سامنے لاجواب ہورہے ہیں ‘ سرکاری افسروں اور انجینئروں وغیرہ کو ہمارے منتخب عوامی نمائندہ ہونے کا کوئی احساس نہیں دیا جارہا ہے ‘ اسی لئے تو وہ آئے دنوں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی بہانے منتخب پنچ یا سرپنچ کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ۔‘‘
خان کا کہنا تھا جن مقاصد کے تحت ریاستی سرکار نے تقریباً ۶ماہ قبل ریاست میں پنچایتی انتخابات کا کامیاب انعقاد عمل میں لایا تھا ، وہ مقاصد بدقسمتی سے ریاستی سرکار کی مصلحت پسندی کے موجب پورے نہیں ہوپارہے ہیں ۔’’ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ پنچایتی انتخابات میں تمام تر مشکلات اور خدشات کے باوجود حصہ لینے کا ہمارا واحد مقصد اپنے عوام کی خدمت کرنا تھا لیکن ریاستی سرکار کی طرف سے ابھی تک ہمیں وہ تعاون اور حمایت نہیں مل پارہی ہے ، جس کے تحت ہم دیہی عوام کی مشکلات کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں تعمیر وترقی اور خوشحالی میں اپنا رول ادا کرپاتے ۔‘‘
پنچایت کانفرنس کے چےئرمین نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پنچایتوں کو پنچایتی راج ایکٹ۱۹۸۹کے تحت اختیارا ت کی منتقلی ہو ۔اس کے علاوہ بلاک اور ضلع سطح کے پنچایتوں کے انتخابات کا انعقاد کرایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ سنٹرل اور سٹیٹ فنڈس کو پنچایتوں کے حد اختیارمیں رکھا جائے ۔’’سرپنچوں اور پنچوں کو کماز کم ۱۵ہزاراور۱۰ہزار روپے کا ماہانہ مشاہرہ دینا ۔پنچایتوں کو سی ڈی ایف طرز پر ۱۵لاکھ روپے تک کے فنڈس کی فراہمی ۔‘

Untitled Document
Untitled Document
© COPY RIGHT THE DAILY NIDA-I-MASHRIQ ::1992-2007
POWERED BY WEB4U TECHNOLOGIES::e-mail