Untitled Document
Google
Web
mashriqkashmir.com
Untitled Document
حراستی ہلاکت‘ حکومت کو ۴ ہفتوں میں رپورٹ دینے کی ہدایت
سرینگر/۸ مئی................ریاستی ہائی کورٹ ن مبینہ طور پر پولیس حراست میں مارے گئے کولگام کے ایک رہا شدہ جنگجو کی ہلاکت کے سلسلے میں حکومت کو ۴ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت کا حکم ہے کہ اگرحکومت مقررہ وقت کے اندر رپورٹ پیش کرنے میں ناکام رہی تو ڈی آئی جی جنوبی کشمیر ذاتی طور پر عدالت میںحاضر ہوجائیں۔ اس سلسلے میں ۳۵سالہ مصرہ بانو زوجہ محمد رمضان کھانڈے ساکن متجن میر بازار کولگام نے ریاستی ہائی کورٹ میں ایک عرضد اشت دائر کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ۲۸مارچ۲۰۰۵کو ان کا شوہر معمول کی طرح اپنی کام کیلئے نکلا تاہم شام دیر گئے تک وہ واپس گھر نہیں لوٹا۔
مصرہ بانو کا کہناتھا کہ اس روز انہوں نے دیور کے ہاتھ شہر کیلئے دوپہر کا کھانا بھیجا تاہم مصرہ کے بقول ان کا دیور کچھ ہی مدت کے بعد یہ کہہ کر واپس لوٹاکہ محمد رمضان کام پر موجود نہیں ہے۔ مصرہ نے اپنے شوہر کو ڈھونڈنکالنے کیلئے ہر جگہ چھان ماری تاہم انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ۱۳مارچ کو ان کے کنبے پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب رام بن پولیس اسٹیشن سے افراد خانہ کو یہ اطلاع ملی کہ محمد رمضان کی لاش تھانے میں ہے اور اسے لے جانے کیلئے پولیس سے رابطہ قائم کریں۔ عرضداشت میں مصرہ نے عدالت کو اس بات سے بھی آگاہ کیاہے کہ پولیس نے ان کے شوہر کی ہلاکت کے حوالے سے جو کیس درج کیاہے ۔
اس میں کہاگیاہے کہ ان کی موت سڑک حادثے میں ہوئی ہے۔تاہم مصرہ نے پولیس کے ان دعوﺅں کو مسترد کرتے ہوئے عدالت سے کہا ہے کہ پولیس بے بنیاد اور من گھڑت دلیل پیش کرکے افراد خانہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیںکیونکہ مصرہ کے بقول اسکے شوہر کا سر دھڑ سے الگ کیاگیاتھا اور عام حالات میں حادثے میں اس طرح کی موت واقع نہیں ہوتی۔مصرہ بیگم نے پولیس پر الزام عائد کرتے ہوئے اپنی عرضداشت میں کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ پولیس نے ان کے شوہرکو گرفتارکرکے بعدمیں دوران حراست قتل کیا اور اب اپنی گناہوں پر پردہ ڈالنے کیلئے محض بہانے تراشتی ہے۔ عدالت نے مصرہ کی طرف سے دائرکردہ عرضداشت کو منظور کرتے ہوئے اس معاملے پر باضابطہ سماعت شروع کرنے کی ہدایت دی ۔ محمد رمضان ایک جنگجو تھا اور سال ۱۹۹۸میں اس نے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال کر سرنڈر کیاتھا اور تب سے وہ ترکھان کا کام کرتاتھا۔
Untitled Document
Untitled Document
© COPY RIGHT THE DAILY NIDA-I-MASHRIQ ::1992-2007
POWERED BY WEB4U TECHNOLOGIES::e-mail