|
سرےنگر/۱۲ مئی(مشرق ڈیسک)............................ممکنہ دراندازی کو روکنے کےلئے ہندوستان کنٹرول لائن پرمزےد فوج تعےنات کررہا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق کنٹرول لائن اور پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدپردراندازی کی کوششوں کے بعد مزےد فوجی اہلکاروں کو ان مقامات پر تعےنات کیا جا رہا ہے ۔گزشتہ ہفتے سانبہ میں بی ایس ایف نے جنگجووں کی اس سال کی اب تک سب سے’ بڑی‘ دراندازی کی کوشش کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا ۔بی ایس ایف کا کہنا تھا کہ جنگجووں کو ریاست میں دھکےلنے کےلئے سانبہ سےکٹر میں سر حد کے اُس پار سے شدےد فائرنگ کی گئی ۔
اس بےچ انٹےلی جےنس بےورو(آئی بی ) نے بی ایس ایف‘ جو پاکستان کے ساتھ لگنے والی بےن الاقوامی سرحد کی حفاظت پر مامور ہے پر تساہل پسندی کا الزام لگایا ہے ۔ انٹےلی جےنس بےورو نے سانبہ کے واقع کے بعد کہا کہ بی ایس ایف کی نگرانی میں نرمی برتنے کا جنگجوو¿ں نے فائدہ اٹھایا ۔اس ضمن میں اس نے ایک رپورٹ وفاقی حکومت کو بھےج دی ہے ۔آئی بی نے اپنی اس رپورٹ میں کہاہے کہ آنے والے دنوں میں دراندازی کی مزےد کوششےںہونے کا امکان ہے ۔ اس کے مطابق بےن الاقوامی سرحدپرکئی مقامات پر جنگجو جمع ہو گئے ہیںتاکہ ریاست میں داخل ہو سکےں ۔آئی بی نے رپورٹ میں کہاہے کہ جنگجو کےرن‘ مژھل ‘ اوڑی اور بونیار میںبھی کنٹرول لائن کے اس پار داخل ہونے کے منتظر ہیں ۔
سکےورٹی اےجنسیوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ریاست میں ۲۱ سو کے قریب جنگجو موجود ہیں جو۲۰۰۶ کے مقابلے میں نصف ہے ۔ اےجنسیوں کا کہنا ہے کہ جنگجوکشمیر میں اپنی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں اور آئندہ ہفتوں میں جب برف پگھلنا شروع ہو جا تو انہیں اُن مقامات سے کشمیر میں داخل ہونے کا موقع ملے گا جہاں تار بندی نہیں کی گئی ہے یا پھر جسے برف باری سے نقصانپہنچ گیا ہے ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۰۶ میں ۳۴۳ جبکہ ۲۰۰۷ مں ۱۱۳ بار دراندازی ہو ئی تھی ۔غور طلب ہے کہ سانبہ سےکٹر میںپہلے دراندازی کی کوشش اور پھر فورسز اور جنگجووںکے درمیان جھڑپ میں ۷ لوگوں کی ہلاکت کا واقع اس وقت رونما ہوا جب ۲۰ اور۲۱ مئی کو اسلام آبادمیںپاکستان اور ہندوستان کے درمیان جامع مذاکرات کا عمل بحال ہو جائےگا۔
|