|
سرینگر/۲۱مئی(کشمےر نےوز سروس).................... ریاستی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی خصوصی ہدایت پرسرینگر جنسی اسکینڈل کی سماعت آج پہلی بارعدالت عالیہ کے فل بنچ کے سامنے ہوئی جس کے دوران کیس کی منتقلی سے متعلق چیف جسٹس کے حالیہ فیصلے کے ابہام کو دور کرنے کیلئے کیس کی سماعت ۲۶مئی تک ملتوی کردی گئی۔سیکس اسکینڈل کی سماعت ۶ماہ بعد آج ریاستی ہائی کورٹ کے جسٹس نثار احمد ککرو ، جسٹس جے پی سنگھ اور جسٹس وریندر سنگھ پر مشتمل فل بنچ کے سامنے ہوئی ۔ اس موقعہ پر عدالت عالیہ کا ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہواتھا اور جج صاحبان کے علاوہ وکلاء، صحافیوں ، ملزمان کے رشتہ داروں اورعام لوگوں کی بڑی تعدادوہاں موجود تھی۔ عدالت میں مفاد عامہ کے تحت دائر کئے گئے اس کیس کی سماعت سرکردہ قانون دان ایڈوکیٹ ظفراحمد شاہ کررہے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل شبیراحمدنائیک اور مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی کی طرف سے ایڈوکیٹ انیل بھان نے عدالت میں دلائل پیش کئے جبکہ جنسی اسکینڈل سے متعلق سی بی آئی کے تحقیقاتی افسر مسٹر ایس ایل گپتا بھی موجود تھے۔ عدالت عالیہ کے فل بنچ کے سامنے جونہی اس کیس کی پہلی سماعت شروع ہوئی توفل بنچ میں شامل جسٹس جے پی سنگھ نے بتایا کہ چیف جسٹس کا حالیہ فیصلہ ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے کیونکہ اس فیصلے سے یہ بات صاف نہیں ہوتی کہ آیا جسٹس موصوف نے اس معاملے کو سرے سے ہی فل بنچ کے سامنے منتقل کرنے کے احکامات دئے ہیں یا پھر عدالت عالیہ کے جسٹس بشیراحمد کرمانی اور جسٹس حکیم امتیاز حسین پر مشتمل ڈویژن بنچ کے متضاد فیصلے کو ہی اس بنچ کے سامنے اٹھانے کا ذکر کیاہے۔
جسٹس جے پی سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ آیا فل بنچ پورے اسکینڈل کی سماعت کرے گا یا صرف ان نکات کی سنوائی ہوگی جن پر ڈویژن بنچ کے دونوں جج صاحبان نے اختلاف رائے کا اظہار کیاہے۔ایڈوکیٹ ظفراحمد شاہ نے دفعہ۲۹اور۳۰کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ چیف جسٹس کے پاس یہ اختیارات موجود ہیں کہ وہ کیس کو کسی بھی عدالت میں اور کسی بھی بنچ کیلئے منتقل کرسکتے ہیں۔
تاہم تینوں جج صاحبان پر مشتمل فل بنچ ان کی دلیل سے متفق نہیں ہوا اور ہدایت جاری کی کہ اس معاملے پر مزید بحث کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت ۲۶مئی کو ہوگی۔واضح رہے کہ عدالت عالیہ کے جسٹس بشیراحمد کرمانی نے جنسی اسکینڈل کے معاملے پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہاتھا کہ اس اسکینڈل میں جن افراد کے نام سامنے آئے ہیں اور جن کے خلاف ثبوت وشواہد موجود ہیں ، ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور یہ کہ کیس کی سماعت مکمل طور پر چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں کی جائے اور وہی عدالت ملزمان کو سزابھی سنائے۔تاہم اسی ڈویژن بنچ میں شامل جسٹس حکیم امتیازحسین نے اس کے برعکس فیصلہ سناتے ہوئے اس معاملے کو مکمل طور پر چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں منتقل کرنے کے احکامات صادر کئے تھے ۔جسٹس موصوف نے اپنے فیصلے میں ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے سے متعلق واضح طور پر کچھ نہیں کہاتھا۔ چنانچہ ڈویژن بنچ کے متضاد فیصلے سامنے آنے کے بعد چیف جسٹس ،جسٹس رادھاکرشنن نے یہ کیس فل بنچ کو منتقل کیا۔
|