Untitled Document
Google
Web
mashriqkashmir.com
Untitled Document

قابل کاشت اراضی کی خریداری
وزراء اور بیروکریٹوں کے درمیان دوڑ

کشمیر کے طول و ارض میں زمین کی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت میں اضافہ کے نتیجہ میں مانگ اتنی بڑھ رہی ہے کہ اوسط مالی استطاعت رکھنے والے معمولی رہائشی ضروریات کی خاطر چند گز زمین خریدنے کا محض اب خواب ہی دیکھ پا رہے ہیں ۔ حالیہ برسوں میں کشمیر میں زمین کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ اس وقت بھی زمین کی قیمتوں میں چڑھاؤ کا تشویشناک رحجان جاری ہے۔
بنجر اراضی کو تجارتی اور رہائشی مقصد کے لئے استعمال میں لانا قابل فہم ہے لیکن قابل کاشت اراضی اور باغات کو رہائشی اور تجارتی مقاصد کیلئے استعمال میں لانا نہ صرف مروجہ قواعد و ضوابط کے خلاف ہے بلکہ کشمیر دشمنی سے ہی عبارت قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مجرم وہ لوگ ہیں جو اپنی ناقابل کاشت اراضی کی ہیئت محکمہ مال کے پٹواری اور گردوار کے ہاتھوں تبدیل اور ریکارڈ میں غلط اندراج عمل میں لاکر فروخت کررہے ہیں،لیکن وہ لوگ بھی مجرم ہیں جو ایسی اراضی کو خرید رہے ہیں اور تیسرا مجرم وہ ہے جو ان دونوں کے درمیان سازشانہ اور مجرمانہ رول ادا کرکے اپنا الو سیدھا کررہے ہیں۔
بغیر محنت کے بے پناہ دولت کا حصول بھی زمین کی قیمتوں کو آسمان کی بلندیاں عطا کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔گزشتہ چند مہینوں کے دوران کشمیر کے مختلف علاقوں میں بڑے بیروکریٹوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کے ساتھ ساتھ موجودہ وزارتی کونسل میں شامل کئی ایک وزراء نے سینکڑوں کنال اراضی اپنے ، اپنے رشتہ داروں اور بے نامی کے حوالہ سے حاصل کرلی ہے ۔ ضلع بڈگام اس تعلق سے پیش پیش ہے ۔ اس اراضی میں سے اچھا خاصہ حصہ قابل کاشت تھا لیکن محکمہ مال کے متعلقہ آفیسروں اور اہلکاروں کی ہاتھ کی صفائی اور ان کے روایتی حربوں کی بدولت محض پلک جھپکنے میں یہی قابل کاشت اراضی بنجر بن گئی۔ کوئی بھی جواب دہ نہیں ہے ۔ جب وزیر اور بیروکریٹ اپنی خریداری کے تعلق سے قوانین کا اپنے اوپر احترام لازم نہیں سمجھتے تو محکمہ مال کے متعلق اہلکارو کیا اس اندھی لو ٹ سے اپنا ناجائز حصہ وصول نہیں کریں گے ؟ انہیں روکنے کی کوشش کی جائیگی تو ردعمل میں وہ خاموش نہیں رہ سکتے ۔ ان سارے طبقوں کے ملن نے کشمیر میں رام نام کی لوٹ کو ایک نیا نام عطا کیا ہے ۔ 
۲۲ سال قبل عسکری اور سیاسی سطح پر مزاحمتی تحریک کے ساتھ ہی ’’حوالہ سرمایہ‘‘ کشمیر پہنچ گیا، جن لوگوں کے ہاتھ یہ سرمایہ لگ گیا انہوں نے اس سرمایہ کو ترک سکونت اختیار کرگئے پنڈتوں کی جائیداد خریدنے جبکہ کچھ نے اراضی کی خریداری کے حوالہ سے سرمایہ کاری کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ زمین اور جائیداد وں کی قیمت میں اضافہ ہوتاریخ جواب انتہاکو چھو رہا ہے ۔
کورپشن اور بدعنوانیوں کا گراف بھی ا س مدت کے دوران بلند ہوتا رہا اور جن سیاستدانوں ‘ حکمرانوں ، حکومتی عہدیداروں ، بیروکریٹوں کے ہاتھ یہ ناجائز اور بغیر محنت کی دولت ہاتھ آئی اس نے کشمیر کے طول و ارض بالخصوص سرینگر کے مضافات میں کئی پوش کالونیوں کو وجوہ بخشا۔ یہ کالونیاں اب وسعت اختیار کرتی جارہی ہیں۔ نتیجہ کے طور زمین کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
جائز دولت کے سہارے خریدوفروخت اخلاقی اور قانونی اعتبار سے ناجائز اور غلط اور نہ ہی اس سرمایہ کاری کے منفی یا بڑے اثرات معاشرے پر مرتب ہوئے ہیں لیکن ناجائز دولت کے سہارے خریدو فروخت بد دیانتی اور بے ایمانی کی کاشت کی حوصلہ افزائی کا موجب بن رہا ہے۔ جو بیروکریٹ اور سیاستدان قرب و جوار میں سینکڑوں کنال اراضی خرید چکے ہیں اس کا اندراج ان کی طرف سے داخل جائیداد گوشوارے میں نہیں ہے ۔ کیونکہ بیروکریٹوں کے سربراہ محکمہ کے سابق اور موجودہ منتظمین کی دلیل یہ ہے کہ ایسا کرنے سے ان کی privacy خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ مرکز ی کابینہ میں شامل وزراء کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ اپنی جائیدادوں کا گوشوارہ نہ صرف داخل کریں بلکہ اس کی تفصیلات منظر عام پر بھی لائیں لیکن ریاستی وزراء اور بیروکریٹوں کے لئے ایسا کرنا معیوب سمجھا جارہا ہے۔
بہر حال قابل کاشت اراضی کی خرید و فروخت بہ حیثیت مجموعی کشمیر اور اہل وادی کے فوری اور طویل المدتی اقتصادی اور معاشرتی مفادات کے حوالہ سے نقصان دہ ثابت ہورہی ہے۔ بخشی مرحوم کے دور اقتدار میں جس وبا اور لعنت کو اہل کشمیر پر اقتصادی خوشحالی کے نعرے کی آڑ میں مسلط کردیا گیا تھا بعد کے آنے والے حکمرانوں اور ان کی سرپرستی میں پرورش پارہی انتظامیہ نے اس لعنت کو نئے نعروں کے ساتھ عملی جامہ پہنایا۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہورہا ہے کہ کشمیر کا اوسط شہری ضروریات زندگی کے حصول کیلئے پنجاب اور ہندوستان کی دوسری پیداوار میں ریاستوں کی محتاج بنتی جارہی ہے۔ اناج ، آٹا، گندم، مکی، دالیں، تیل، مسالہ جات، اونی ملبوسات ، پولٹری، گوشت، ساگ سبزیاں، دودھ، محض چند شالیں ہیں جن کاحوالہ دے کر یہ واضح کیا جاسکتا ہے کہ کشمیر ان شعبوں کے تعلق سے کس حد تک محتاج بن چکا ہے ۔ آنے والے دنوں میں بچی کھچی قابل کاشت اراضی کی ہیئت تبدیل کرنے کے رائے پر گامزن رہ کر کشمیر انتہائی گہرائیوں تک محتاج بنتا جائیگ
ا۔



Untitled Document
Untitled Document
© COPY RIGHT THE DAILY NIDA-I-MASHRIQ ::1992-2007
POWERED BY WEB4U TECHNOLOGIES::e-mail