Untitled Document
Google
Web
mashriqkashmir.com
Untitled Document

راج بھون کے لئے فوجی ہی کیوں؟

راج بھون کے موجودہ مکین کی معیاد ملازمت آخری مرحلہ میں ہے اور راج بھون کے لئے نئے مکین کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔حیرت انگیز طور سے جو نام اس عہدے کے لئے زیرِ غور ہیں ان کا تعلق بھی فوج سے ہی ہے اور ان میں جنرل وِج کا نام سر فہرست ہے جبکہ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ مرکز کی یو پی اے سرکار اس شخص کے نام پر تقریباً متفق ہو گئی ہے۔ بس باضابط اعلان اب کسی بھی وقت متوقع ہے۔
ریاستوں میں گورنروں کو تعینات کرنے کی ضرورت، اہمیت اور گورنروں کے رول کے حوالہ سے اب سوال اٹھنے لگے ہیں ۔ مرکزی سرکار کی اہم شریک کمیونسٹ بلاک نے یہ سوال پہلے ہی اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ آزادی کے ساٹھ سال گزرنے کے بعد کیا اب بھی یہ ضروری ہے کہ مرکز گورنروں کو نامزد کرکے ریاستوں میں انہیں تعینات کرے۔ کمیونسٹ پارٹی نے اگرچہ ابھی اس سوال کو اپنے سیاسی ایجنڈا میں شامل نہیں کیا ہے لیکن سوال اٹھا کر بحث ضرور چھیڑ دی ہے اور یہ بحث دلچسپی اور توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ قطع نظر اس سوال اور بحث کے جموں و کشمیر کے حوالہ سے گورنر کی تعیناتی کا جب جب بھی مرحلہ درپیش آتا ہے تو مرکزی قیادت ہر مرحلہ پر ریٹائرڈ فوجی افسر کو ہی ترجیح دے رہی ہے۔ کسی سیاسی شخصیت کا انتخاب اس عہدے کے لئے شجرِ ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔کیوں؟
یہ تو معلوم نہیں البتہ ریاست کے گورنر کے عہدے کے لئے فوجی شخصیت کا انتخاب کرکے مرکزی سرکار اور مرکزی قیادت چند ایک حلقوں پر واضح کررہی ہے کہ وہ کشمیر کو سیاسی نہیں بلکہ فوجی مسئلہ تصور کرتی ہے، اس مسئلہ کا حل سیاسی نہیں بلکہ طاقت کے بل بوتے پر ہی ممکن ہے۔ عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان کی آواز کو کسی ایک حد تک برداشت کیا جا سکتا ہے اور جب آواز حد سے تجاوز کر جائے گی تو اس کو فوجی طاقت کے بل بوتے پر دبانے سے گریز نہیں کیا جائیگا۔ مرکزی سرکار اور مرکزی سطح پر سیاسی قیادت کی یہ سوچ اور طرز عمل ٹھیک نہیں ہے، جس کا سب سے بڑا ثبوت گزشتہ برسوں کے پیش آمدہ حالات و واقعات ہیں جو مرکز کی اسی منفی سوچ اور سستی سیاست کا مرہونِ منت تصور کیا جا رہا ہے۔بے شک گورنر کسی ریاست میں مرکز کا ایک ایجنٹ، نمائیندہ، ترجمان اور مختلف امورات کے حوالہ سے اس کی حیثیت ایک کسٹوڈین کی بھی ہوتی ہے، لیکن ملک کے جمہوری طرز نظام میں جو کچھ خامیاں ہیں اور جنہیں دور کرنے کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ہے ان میں ریاستوں کے لئے گورنروں کی تقرری کا موجودہ ناقص اور غیر جمہوری طریقہ¿ کار خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے۔ جس طریقے سے گورنر کا انتخاب عمل میں لایا جاتا ہے وہ یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ اس کی حیثیت ایک بڑے ملازم کی سی ہے لیکن اسے آئین کا نگہبان اور کسٹوڈین سمجھا جا رہا ہے۔ بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر اس کو آئینی سربراہ کا درجہ بھی ملا ہوا ہے۔ خامی یہ ہے کہ اگر ملک کے لئے صدر اور نائب صدر کا انتخاب تابع الیکشن ہے تو گورنر کا انتخاب سلیکشن کے تابع کیوں؟۔
جموں و کشمیر کے لئے گورنر کی تعیناتی کے تمام تر اختیارات مرکز کے پاس ہیں اور اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ریاست کی اندرونی خود مختاری پر جو پے در پے وار کئے گئے ہیں ان میں سے یہ معاملہ بھی شامل ہے۔ لوگوں نے آج تک مرکز کے اس طریقہ¿ کار کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں کی اور نہ اعتراض۔لیکن راج بھون کے موجودہ مکین نے اپنے اب تک کے دور ِ ملازمت کے دوران جس طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا اس نے یقیناً سنجیدہ فکر اور حساس عوامی اور سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔ راج بھون ، اس کے وسائل، اختیارات اور افرادی قوت کو شری امرناتھ یاترا اور ویشنو دیوی یاترا کے انتظامات کے حوالہ سے ہیڈکوارٹروں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ امرناتھ یاترا کو ایک ماہ کے دورانیہ سے نکال کر دو ماہ کے دورانیہ میں تبدیل کردیا گیا۔ اس یاترا کے نتیجے میں نہ صرف پہلگام اور اس کے نواحی علاقوں کو گندگی، غلاظت اور کثافت کے جنگل میں تبدیل کیا جا رہا ہے بلکہ مقامی آبادی کے لئے اس مدت کے دوران پہلگام کی سیر تفریح ناممکن بنا دی جاتی ہے۔ راج بھون کی حیثیت اگر سیاسی مندر کی ہے تو اسے مذہبی اکھاڑوں میں کیوں اور کن مصلحتوں کے پیشِ نظر تبدیل کردیا گیا ہے۔
بہر حال اب جب کہ مرکزی سرکار کو گورنر کی تعیناتی کا اختیار حاصل ہے لیکن یہ سوال تو مرکز سے کیا جا سکتا ہے کہ جموں و کشمیر کے لئے گورنر کے عہدے کے لئے فوجی آفیسر ہی کیوں؟ کوئی شہری ، کوئی دانشور، کوئی اہلِ علم، کوئی ماہر نفسیات و تعلیم، کوئی ماہر اقتصادیات پر نگاہ کیوں نہیں ؟ جنرل کے وی کرشنا راو ، گریش چندر سکسینہ، جنرل سنہا اور اب جنرل وج ، کیا یہ اس بات کی طرف بھی واضح اشارہ نہیں کہ دلی میں بیٹھے بابو کشمیر کو اپنی نوآبادیاتی تصور ہی نہیں کررہے ہیں بلکہ اس کا اپنے طرز عمل اور طریقہ¿ کار سے خود اشتہار بھی بنے ہوئے ہیں۔ لوگ اس اندازِ فکر اور طرزِ عمل کو اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ رہے ہیں اور محسوس بھی کررہے ہیں۔ صدر عبدالکلام نے اپنے صدارتی عہدے کے دوران نہ صرف ملک کے آئینی سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ دارویوں اور فرائض کو نبھایا بلکہ ایوان صدر کو اپنے احسن عمل سے عوام کے اتنے قریب لا دیا کہ ایوان صدر اور اس کا مکین ملک کے عوام کے دلوں کی دھڑکن کا ایک حصہ بن گیا۔ کلام ملک کے پہلے صدر ہیں جنہیں اتفاقِ رائے سے ’عوامی صدر‘ کا لقب ملا۔ اس کے برعکس ہمارے راج بھون کو کیا ملا اور اس نے یہاں کے عوام کو کیا دیا؟ اس پر علحیدہ بحث کی جاے تو ایک ضخیم کتاب کی ضرورت پیش آئے گی۔ مختصر طور پر زیادہ گہرائی میں نہ جاتے ہوئے موجودہ مکین کے بارے میں ریاست کے عوامی حلقوں میں ا س بات پر اتفاق ہے کہ موجودہ مکین نے راج بھون کو ایک مخصوص مذہبی فکرکا اڈہ بنا دیا۔ مختلف معاملات کے حوالے سے فوج کے ترجمان اعلیٰ کی حیثیت کا رول ادا کیا حالانکہ فوج کے پاس ان معاملات کو بہتر طور سے انجام دینے کے لئے تعلقاتِ عامہ کے افسر کی خدمات میسر ہے ، لوگوں کے قریب جانے اور ان کی تکالیف کا مداوا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اگر نئے گورنر کو بھی انہی خطوط پر اپنا رول ادا کرنا ہے تو مرکز کی سیاسی اور حکومتی قیادت کو یہ راستہ اور یہ سوچ پھر مبارک ہو۔



Untitled Document
Untitled Document
© COPY RIGHT THE DAILY NIDA-I-MASHRIQ ::1992-2007
POWERED BY WEB4U TECHNOLOGIES::e-mail