Untitled Document
Google
Web
mashriqkashmir.com
Untitled Document
مشرف کی پالیسی نے عسکریت پسندوں کو دفاع پرلایا: گیلانی
سرینگر/۱۲ مئی(ہارون رشید)....................حریت کانفرنس (گ) کے چیرمین‘سےد علی شاہ گیلانی کا کہناہے کہ پاکستان کی کشمیر کے تئےں معذرت خواہانہ پالیسی نے کشمیر میں سرگرم جنگجووں کو دفاعی پوزےشن پرلایا ہے ۔ گیلانی کے مطابق مخبروں کا جال پھےلانے کےلئے دلی کشمیر میں سےلاب کی طرح سرمایہ کاری کررہی ہے ۔ ”ندائے مشرق “ کے ساتھ ایک انٹرویو میں حریت کانفرنس (گ) کے چیر مین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کشمیر میں سرگرم جنگجو دفاعی پوزےشن میں آگئے ہیں لیکن اس کےلئے یہ پاکستان کے صدر پروےز مشرف کو ذمہ دارگردانتے ہیں ۔گیلانی کہتے ہیں ” عسکریت پسند اگر دفاعی پوزےشن میں آگئے ہیں تو اس کےلئے بہت حد تک پاکستان کے صدر پروےز مشرف ذمہ دار ہیں ۔انہوں نے کشمیرکے تئےں جو معذرت خواہانہ پالیسی اختیارکی اس کا نفسیاتی اثرعسکری گروپوں پرپڑ گیا ۔“ان کا کہنا ہے کہ دلی کشمیر میں مخبروں کا جال بننے کےلئے سےلاب کی طرح سرمایہ کاری کررہی ہے‘یہی وجہ ہے کہ مجاہدےن کسی مکان میں ابھی بےٹھے نہیں ہو تے ہیں کہ ہندوستانی فورسز اس کا گھےراو¿ کرکے مکان کو اڈاکر مجاہدےن کو شہےدکرتے ہیں ۔انہوں نے کہا ۱۹۹۰ءکی دہائی میں کشمیر میں جس طرح جنگجوئیت متحرک تھی اب ایسا دیکھنے میں نہیں آرہا ہے ۔
حریت کانفرنس (گ) کے چیر مین سے جب یہ استفسار کیا گیا کہ کیا بہ حےثیت ایک سیاسی تجزیہ نگار وہ یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کےلئے اب صرف سیاسی سطح پرہی جد وجہد کی ضرورت ہے تو انہوں نے اس کا براہ راست جواب دیتے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیاکہ عسکریت پسند وں کی اپنی پالےسیاں ہیں ‘ وہ خود کوئی فےصلہ کر سکتے ہیں ۔گیلانی نے کہا”میں ان کو ڈکٹےٹ نہیں کر سکتا ہوں ۔وہ خود فےصلہ کرےں ‘ ان کی اپنی حکمت عملی اور پالےساں ہیں جن کے ساتھ براہ راست ہماراکوئی تعلق نہیں ہے ۔“حریت (گ) کے چیرمین جوکہ تحریک حریت کے بانی اورسربراہ بھی ہیں نے البتہ کہا کہ وہ جنگجووں کو یہ مشورہ دےں گے کہ وہ اپنی عسکری کارروائیوں میں انسانی اور اخلاقی اقدار کو کسی بھی طور پر پامال نہ کرےں ۔باقی وہ گیلانی کے الفاظ میں آزاد ہیں اور میں انہیں ڈکٹےٹ نہیں کر سکتاہوں۔ جب ان سے پوچھاگیا کہ کشمیر دنیا کے حالات و واقعات سے لاتعلق نہیں رہ سکتا ہے اور ان واقعات کا کشمیر پر بھی لازمی طور ایک اثرپڑ تا ہے تو کیا انہیں لگتا ہے تحریک کو سیاسی طور آگے لے جاناہی فائدہ مند ہو گا تو گیلانی نے کہا”نائن الےون کے بعد سرکاری دہشت گردی کا جواز پےدا کرنے کےلئے سٹےج تیار کیا گیا ۔اس واقع کے بعد سرکاری دہشت گردی کا ہی چلن ہے چاہے وہ افغانستان ہو‘عراق یا پھرکشمیر ۔جائز جد د جہد کو دہشت گردی سے نتھی کر دیا گیا ۔“
گیلانی جو پاکستان کی کشمیرپالیسی پر نہ صرف بار بار ناراضگی کا برملااظہار بلکہ اسے جد و جہد کےلئے نقصان دہ بھی قرار دے چکے ہیں سے جب یہ پوچھا گیا کہ آخر پاکستان کو اپنے مفادات کو تحفظ دےنے کا بھی حق بنتا ہے ‘پاکستان ایک کروڑ کشمیریوں کو اپنے ۱۶ کروڑلوگوں پرکےسے ترجےح دے تو حریت کانفرنس (گ) کے چیر مین نے کہا”کیامسئلہ کشمیر حل نہ ہونا پاکستان کےلئے نقصان دہ ثابت نہیںہو ہوگا؟اگر کشمیر‘ ہندوستان کے قبضے میں ہی رہا تو مستقبل میں یہ پاکستان کےلئے مشکلات پےدا کر سکتا ہے‘ اس کےلئے پانی بند کر سکتا ہے ۔کیا یہ پاکستان کے لوگوں کی ذمہ داری نہیں کہ وہ کشمیریوں کو غلامی سے آزاد کرےں ؟“گیلانی نے پاکستان کی نئی حکومت کے وزےراعظم سےد رضاگیلانی کے مشرف کے چار نکاتی فارمولہ کوناپختہ قرار دےنے کو خوش آئند قرار دیا تاہم ساتھ ہی کہا کہ تجارت کے بجائے اسے مسئلہ کشمیر کو ترجےح دےنی چاہےے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر کو کور اشو قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراددادوں کے تحت حل کرانے کےلئے کشمیریوں کی سیاسی ‘اخلاقی اورسفارتی مدد جا ری رکھے ۔گیلانی نے کہاکہ پاکستان کونہ صرف کشمیریوں بلکہ اُن پانچ ہزارپاکستانیوں اور’ آزاد کشمیر‘ کے جنگجووں کی قربانیوںکو یاد رکھناچاہئے جو انہوں نے کشمیر میں پےش کیں۔انہوں نے کہاکہ وہ پاکستان کی نئی حکومت سے ہندوستان کے ساتھ جنگ کرنے کو نہیں کہہ رہے ہیںلیکن اتنا ضرورکہنا چاہتے ہیں کہ مشرف کی طرح کشمیر پر معذرت خواہانہ پالیسی اختیار نہ کرے۔
حریت کانفرنس (گ) کے چیرمین نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ آنے والے انتخابات ان کی بائیکاٹ مہم کےلئے رےفرنڈم کی حےثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے ہندوستانی فورسزپر الزام لگایا کہ وہ ابھی سے انتخابات میں لوگوں کی شرکت کو ےقےنی بنانے کےلئے زمین ہموار کررہی ہے ۔گیلانی کے مطابق دیہات اور دوردراز علاقوں میں لوگوں کو فوجی کےمپوں پر بلا کر انہیں ووٹنگ میں حصہ لےنے کو کہا جا رہا ہے ۔انہوں نے وزےر اعلیٰ غلام نبی آزاد کے اس الزام کو مستردکیا کہ علےحدگی پسند لوگوں کو انتخابات سے دوررکھنے کےلئے ڈرا رہے ہیں ‘ انہوں نے کہا کہ الٹا فورسز لوگوں کو ڈرا رہی ہے کہ وہ اس عمل سے دور نہ رہیں ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کئی حلقے انتخابات کو مسئلہ کشمیر سے دور رکھنے کی بات کررہے ہیں ‘ تو آپ بائیکاٹ مہم کا اعلان کر کے ان انتخابات کو اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں ؟ گیلانی نے کہا ” چیز اگر صحےح ہو لیکن اس کااس کاغلط استعمال کیا جا رہا ہو تو اسے ترک کر دےنا چاہےے۔میں ایسا اس لئے نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہم نے انتخابات کو زیادہ اہمیت دی بلکہ اس لئے کہ غلام قوم میں سوچنے کی حِس کمزرو ہوتی ہے ۔وہ ذہن کے بجائے پےٹ سے سوچتی ہے ۔اس عمل سے استحصال ہو رہا ہے اس لئے لوگوں کو اس سے روکنا ضروری ہے ۔“بزرگ علےحدگی پسندلےڈرکی توجہ جب اس جانب مبذول کرائی گئی کہ پاکستان میں کچھ حلقے اور اس کے زےر انتظام کشمیر کے وزےر اعظم علےحدگی پسندوں کو انتخابات میں حصہ لےنے کا مشورہ دے رہے ہیں تو گیلانی نے کہا ”اگرپاکستان بھی انتخابات میں حصہ لےنے کو کہے تو ہم اسے مسترد کرےں گے ۔جہاں تک آزاد کشمیر کے حکام کاتعلق ہے تو وہ کرسیوں کے غلام ہیں ‘ انہیں کسی اورچیز میں دلچسپی نہیں ہے ۔“
تحریک حریت کے سربراہ نے کہا کہ اگر انتخابات کا بائیکاٹ کرنے سے کسی بھی ہند نواز سیاسی جماعت کو فائدہ ملتا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ انہوں نے کہا ” پےپلز ڈےموکرےٹک پارٹی یا نےشنل کانفرنس میں کوئی فرق نہیں ۔جو بھی جماعت اقتدار میں آتی ہے وہ ہماری جد و جہد کےخلاف ہے ۔اگر بائیکاٹ مہم سے کسی کو فائدہ ملتا ہے توکوئی فرق نہیں پڑتا ۔ان سب کی سوچ ایک جےسی ہے۔“ گیلانی نے کشمیر کے معاشرے میں برائیوں اور فحاشی کو فروغ دےنے کےلئے ان جماعتوں کو بھی ذمہ دار گردانا ۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ مانگنے والے ہی بد کاری اور سیکس سکےنڈل پر پردہ ڈالتے ہیں ‘منشیات اور شراب کو عام کررہے ہیں ‘ حرام کو حلال اورکلچرکے نام پر بے حیائی پھےلا رہے ہیں ۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا قیادت(علےحدگی پسند) پر فرض نہیں کہ وہ لوگوں کو ان ( ہند نواز) کا ساتھ دےنے سے بچائےں؟
حریت کانفرنس(گ) کے چیر مین مسئلہ کشمیرکے حوالے سے پےش کی گئی مختلف تجاوےز کی نہ صرف نکتہ چینی بلکہ مسترد بھی کرتے آئے ہیں جن میںپاکستان کے صدر پروےز مشرف کی چار نکاتی تجوےز بھی شامل ہے ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے پاس مسئلہ کشمیر حل کرنے کےلئے کون سا نقش راہ ہے ؟تو انہوں نے سب سے پہلے لوگوں کو آنے والے انتخابات سے بائیکاٹ کرنے کو کہا ۔گیلانی نے کہا کہ لوگ انتخابات سے الگ رہ کر ہندوستان کو بتائےں کہ وہ اس کے ساتھ نہیں ہیں۔انہوں نے اسے پہلاہدف قرار دیا ۔گیلانی نے کہاکہ مسئلہ کشمیر زندہ ہے اس لئے لوگوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔انہوں نے لوگوں سے یکسو اور متحد ہو کر پر امن طور پر جد و جہد کو جاری رکھنے کی اپےل کی ۔ انہوں نے کہا کہ اگرلوگوں نے یکسو ہو کر اپنی جد و جہد جاری رکھی تو اللہ کی مدد سے ”ہمیں فوجی تسلط سے آزادی ملے گی ۔“انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیریوں کو شےعہ سنی ‘ گام و شہر ‘ گجراور بکروال اور شےر بکری کے نام پر تقسےم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گیلانی نے کہاکہ لوگ پےٹ کےلئے اپنی جان (موصوف نے آئی ٹی ٹی تربیت یافتہ چار نوجوانوں کی جہلم میں چھلانگ لگا کر جان دےنے کی کوشش کا حوالہ دیا)دےنے کو تیار ہو تے ہیںلیکن غلامی کی زنجےر کو توڑنے کےلئے تیار نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کھانے پےنے کے بغےر کوئی زندہ نہیں رہ سکتا ہے ‘ ان کی اہمیت سے انکار بھی نہیں لیکن انہیں ثانوی حےثیت حاصل ہے ۔
تو اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے باہر کوئی حل حریت (گ) کو قبول ہوگا؟گیلانی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں ہندوستان کا ’نشہ¿ قوت‘ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلی چاہتی ہے کہ کشمیری اور پاکستان جوں کی توں پوزےشن تسلےم کرنے کےلئے تیار ہو جائےں لیکن ایک لاکھ شہداءنے اس کےلئے قربانیاں نہیںدی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دلی کی سوچ میں کشمیر کے حوالے سے کوئی تبدےلی نہیں آئی ہے ‘اگر آئی ہو تی تو پھر وہ کم از کم کشمیر میں تعےنات فوج کی تعداد میں کمی کرتی ۔ فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کو ختم کرتے ہوئے سیاسی نظر بندوں کو رہا کرتی لیکن ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے ۔گیلانی نے کہا کہ حل کی صورت میں ریاست کی تقسےم انہیں قبول نہیں ہے کےونکہ ان کے بقول یہ جموں صوبے کے مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جموں صوبے کے مسلم اکثریتی علاقے کے لوگوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ”یہ بڑا سانحہ ہو گا اگر اِن مسلمانوں کو اُن ہاتھوں میں دیا جائے جو خون مسلم سے رنگے ہوئے ہیں ۔“گیلانی سے جب استفسار کیا گیا کہ آپ دلی سے بات بھی نہیں کررہے ہیں اور ساتھ ہی چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل بھی ہو جائے ؟تو انہوں نے جواب میں کہا جب۱۹۹۸ءمیں یہ متحدہ حریت کانفرنس کے چیر مین تھے تو حریت کی مجلس عاملہ نے انہیں دلی کے ساتھ بات چیت کا اختیار دیا ۔انہوں نے کہا کہ وجاحت حبےب اللہ اورپھر آر کے مشرا کے ساتھ بات چیت ہو ئی جس میں حریت کا موقف ان پرواضح کیا ۔حریت (گ) کے چیر مین نے کہا کہ د لی کے ان نمائندوں نے پھر ان سے دوبارہ بات چیت نہیں کی ۔انہوں نے کہا دونوں کے ساتھ ان علےحدہ ملاقاتوںکے بارے میں حریت کی مجلس عاملہ کو آگاہ کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ”میں نے انہیں بتایا کہ بھارت اپنے موقف میں ایک انچ بھی پےچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔“ مےر واعظ عمر فاروق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گیلانی نے مزےد کہا ” اس کے بعد دلی سے دوبارہ بات چیت کرنے سے پہلے اس کے ساتھ مےری بات چیت کے نتائج پر غور کیا جانا چاہےے تھا۔“موصوف نے کہا کہ انہیں کوئی حل قاقبول نہیں سوائے وہ جوریاست کے لوگ جمہوری طور پر کرےں ےعنی رائے شماری ۔تحریک حریت کے سربراہ نے کہاکہ انہیں اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگرہندوستان اس کے لئے تیار ہو جائے تو پاکستان بھی اس ضمن میں کوئی رکاوٹ پےدانہیں کرے گا۔
یتےموں اور بےواو¿ں کی کفالت کے مسئلہ کا گیلانی نے ہر محلے میں بیت المال کھولنا ہی سب سے آسان اور موثر طرےقہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا ”ان لوگوں کی کفالت کرنا کوئی مشکل بات نہیں ۔اگرقوم اپنا محاسبہ کر کے فضول خرچیوں کو چک کرے تو ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ حریت(گ) کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ براہ راست متاثرہ افراد کی مددکرسکے ۔انہوں نے شکایت بھرے لہجے میں کہاکہ وہ عوام کی سوچ میں تعمےری تبدےلی لا سکےں اور نہ قوم توقعات پرپوری اترسکی ۔اس پر جب گیلانی کو بتایا گیا کہ قوم کےسے ان کی توقعات پرپوری نہیں اتری ‘ لوگوں نے بے مثال مالی اور جانی قربانیاں دےں اور بدلے میں انہیں متحدہ حریت کے بجائے دو دھڑے مل گئے؟ تو موصوف نے حریت کی تقسےم وجہ ۲۰۰۲ءمیں اس کی ایک اکائی کا انتخابات میں حصہ لےنا قرار دیا ۔گیلانی نے کہا ” (علےحدگی پسند) ایک کاز کےلئے ایک جگہ جمع ہو ئے تھے ۔اب کچھ لوگ اتحاد میں رہ کر اس کاز کو نقصان پہنچائےں تو ان کے ساتھ بےٹھنے کا جواز نہیں بنتا تھا۔“جب ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا اب دونوں دھڑوں میں اتحاد ہونا چاہےے یاہوسکتاہے ؟توجواب میں حریت (گ) کے چیر مین نے کہا ” اتحاد فکر کا ہونا چاہئے ‘یہ اصولی اوراصولوں پر اتفاق ہونا چاہےے۔اگر ذہن یکسو نہ ہو تو اتحاد پائےدار نہیں ہو سکتا۔“انہوں نے مزےد کہا کہ گزشتہ سال عےد گاہ میں نماز عےد اتحاد کی ہی کوشش تھی جسے ”سبوتاژ“کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک لبرےشن فرنٹ کے چیرمین‘ محمد یاسےن ملک کا تعلق ہے تو وہ اپنے طورپر کام کررہے ہیں ۔ان کا اپنا ایک نظریہ اور پالیسی ہے ۔
انٹرویو کے دوران گیلانی نے کئی بارکشمیر کے ہند نواز سیاستدانوں کو شدےد تنقےد کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں کشمیریوں کی مشکلات اور ان کے خون ناحق کا برابر کا ذمہ دارٹھہرایا ۔ گیلانی نے کہاکہ نومبر۱۹۴۷ میں جموں میں ۵ لاکھ مسلمانوں کا قتل عام ان لوگوں کو یہ سوچنے کےلئے کافی تھا کہ وہ اپنے بھائیوں کے خون سے رنگنے والے ہاتھوں کے ساتھ ہاتھ کےسے ملاتے۔ حریت کانفرنس (گ) کے چیرمین نے کہا کہ شےخ محمد عبداللہ نے کشمیر میں لوگوں سے کہا تھا کہ وہ انہیں غلط کار کہہ سکتے ہیں لیکن غدار نہیں ۔گیلانی کہا ”۱۹۷۱ءمیں ایک بار دلی میں مےری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے لوگوں کو یہ کیوں کہا تھا کہ میں غلط کار ہوںلیکن غدار نہیں ؟“گیلانی کے مطابق جواب میں شےخ صاحب نے انہیں بتایا” یہی غلطی تھی کہ میں نے ان پر اعتماد کیا جو اعتماد کے لائق نہیں تھے۔“ بزرگ علےحدگی پسند رہنما نے کہا کہ اس واقع کے چارسال بعد ہی۱۹۷۵ءشےخ صاحب نے اندرا گاندھی سے ہاتھ ملایا۔انہوں نے کہاکہ آج جو تعمےرو ترقی کی باتےں کرتے ہیں ان میں ضمےر نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے ۔انہوںنے سوال کیا کہ کیا فلائی اوور‘ حج ہاو¿س اور سڑکےں انسانی خون سے زیادہ اہم ہیں ؟
اس سوال کے جواب میں کہ کیا گیلانی اب بھی کشمیر کے پاکستان کی ساتھ الحاق کے حامی ہیں؟انہوں نے کہا ”پاکستان کے ساتھ مےرا زمین و مکان یا کوئی مادی رشتہ نہیں ہے ۔اُس ملک کو کلمہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا ۔اسکے ساتھ نظریاتی وابستگی ہے ۔لوگوںکو اگراپنے حق کا استعمال کرنے دیا گیا تو کشمیربھی پاکستان کا حصہ بن جائےگا۔“البتہ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ابھی پاکستان میں ایسے حالات پےدا نہیں ہوئے کہ وہاں اسلام کاعادلانہ نظام قائم ہو۔انہوں نے کہا کہ مشرف کی پالےسیوں سے نہ صرف کشمیر اورافغانستان بلکہ پوری ملت کا نقصان ہوا۔گیلانی نے کہا کہ مشرف نے پوری ملت پر ضرب لگائی ۔پاکستان میں اس وقت فوج اور عوام میں جو ٹکراو ہے وہ مشرف کی انہی پالےسیوں کانتےجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب کچھ سال پہلے دلی میں انہوں نے مشرف سے ملاقات میں اس طرف توجہ دلائی تو انہوں جواب میں کہا”گیلانی صاحب آپ پاکستانی اپوزےشن جماعتوں کی طرح بات کررہے ہیں ۔“ انہوں نے پاکستان کی نئی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ لوگوں کے خلاف طاقت کا استعما ل نہ کرےں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ‘ امریکہ کی غلامی سے آزاد ہو جائے اور اپنے مسائل کا حل بات چیت سے نکالےں ۔انٹرویوکے آخرپر جب ان سے پوچھا گیا کہ مشرف کی پاکستان آنے کی دعوت انہوں نے مسترد کی اور اگر اب نئی حکومت انہیں مدعو کرتی ہے تو کیا آپ پاکستان جائےں گے ؟”گیلانی نے کہا ”اول تو مےرے پاس پاسپورٹ نہیں ہے ‘ دوم یہ کہ اگرکبھی دعوت آ بھی جاتی ہے تو اس پر تحریک حریت اور حریت کانفرنس میں مشورہ کر کے ہی کوئی فےصلہ کیا جائےگا۔“
Untitled Document
Untitled Document
© COPY RIGHT THE DAILY NIDA-I-MASHRIQ ::1992-2007
POWERED BY WEB4U TECHNOLOGIES::e-mail