پولیس کا پٹن میں جنگجو کی گرفتاری کا دعویٰ‘ ۸ دستی بم بر آمد
|
سرینگر/۶مئی................پٹن میںپولیس نے آج یک چھاپے کے دوران ایک جنگجوں کو گرفتار کرکے اسکے قبضے سے ۸دستی بم بر آمد کرلئے ہیں۔ جبکہ پولیس اور سی آر پی ایف نے رفیع آباد میں ایک عام شہری کو گرفتار کر کے نا معلوم مقام پر پہنچا دیا جس کے نتےجے میں وہاں لوگوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ تفصیلات کے مطابق صبح پلہالن پٹن میں پٹن پولیس نے محمد مقبول میر و غلام رسول میر کو اپنے دکان سے گرفتار کر لیا جس کے قبضے سے پولیس نے ۸دستی بم بر آمد کرلئے۔ پٹن پولیس نے اس بارے میں سی این ایس کو مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو مذکورہ جنگجووں کے بارے میں مصدقہ اطلاع ملی جس کے بعد محمد مقبول میر ساکنہ پلہالن کو اپنے دکان سے گرفتار کر لیاگیا اور پوچھ تاچھ کے بعد اس نے پولیس کو ۸دستی بموں کے بارے میں معلومات دیں جو اس نے اپنے دکان کے پیچھے ایک گہرے چاہ میں چھپا رکھے تھے۔ پولیس نے مذکورہ شخص کے خلاف کیس درج کر اسے حراست میں لیا۔ اس دوران آج صبح سی آر پی ایف اور ایس او جی رفیع آباد نے ڈنگی وچھ میں ایک چھا پے کے دوان عنایت اللہ شاہ ولد عبدالرشید شاہ کو اپنے گھر سے اٹھا کر گرفتار کر لیا اور اس کو کسی نا معلوم جگہ پر پہنچا دیا ہے۔ اس گرفتاری کے خلاف وہاں مکمل ہڑتال کی گئی اور لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔ احتجاجی مظاہرین جن میں خواتین کی ایک خاصی تعداد بھی شامل تھی نے رفیع آباد بارہمولہ سڑک پر احتجاجی دھرنا دیا جس کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک ٹریفک کی آمدو رفت معطل ہو کے رہ گئی۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ گرفتار شدہ شخص کسی بھی غےر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے اور اس کی گرفتاری بلا جواز ہے۔ لوگوں نے اس کو فوری طور رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر آج پولیس نے نوگام اننت ناگ میں دو دھماکے دار فیوز ایک کھیت میںپائے جنہیں پولیس کے بم ڈسپوزل اسکارڈ نے کاروائی کرکے نا کا رہ بنا دیا۔ |
حراست میں قتل کئے طالبعلم کے خون کی قیمت ۲ لاکھ روپے مقرر |
سرینگر/۵مئی/(کشمیر نےوز سروس)....................ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سرینگر نے غیر معمولی فیصلہ میں ریاستی سرکار کو حکم دیا ہے کہ وہ۱۵سال قبل بی ایس ایف کے ہاتھوں دوران حراست قتل کئے گئے یونیورسٹی کے ایک طالب علم کے افراد خانہ میں دو لاکھ روپے کی رقم بطور ہرجانہ ادا کرے۔ اس سلسلہ میں ۶۰سالہ غلام نبی چودھری ساکن سرائے بالا سرینگر نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سرینگر کی عدالت میں ایک عرضداشت دائر کی جس میں انہوںنے الزام لگایا تھا کہ۹اپریل۱۹۹۳کو ۷۱۱بٹالین بی ایس ایف نے علاقہ کا محاصرہ کیا اور لاﺅڈ اسپیکر کا استعمال کرکے۱۰سال سے زائد عمر کے افراد کو ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ کی سڑک پر جمع ہونے کے لئے کہا۔ غلام نبی کا کہنا تھا کہ کریک ڈاون کے دوران بی ایس ایف اہلکاروںنے دن دہاڑے ہزاروں افراد کی موجودگی میں ان کے ۲۲سالہ بیٹے سجاد احمد چودھری سمیت ۴نوجوانوں طاہر پرویز مغلو ولد غلام نبی، محمد یوسف درزی ولد محمد اسلم اور محمد اشتیاق رفیقی ولد نور الدین کو گرفتار کرکے بدنام زمانہ جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر پاپا ٹو پہنچایا۔ عرضداشت میں مزید کہا گیا تھا کہ اس روز ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر کی طرف سے ایک ٹیلیفون کال موصول ہوئی جس میں غلام نبی کے بقول ڈی سی موصوف نے افراد خانہ کو یقین دلایا تھا کہ ان کا بیٹا شام تک رہا کیا جائے گا۔ تاہم انہوںنے کہا کہ افراد خانہ پر اس وقت پہاڑ ٹوٹ پڑا جب پولیس اسٹیشن نگین سے انہیں یہ اطلاع ملی کہ ان کا بیٹا اور دیگر ۳نوجوان جھڑپ کے دوران مارے گئے ہیں اور ان کی لاش پولیس کنٹرول روم سرینگر میں رکھی گئی ہیں۔
عرضداشت میں غلام نبی نے بی ایس ایف کے ان دعووںکو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے انعامات اور ترقی حاصل کرنے کی غرض سے ان کے بیٹے اور دیگر۳نوجوانوں کو دوران حراست قتل کیا گیا۔ غلام نبی کا کہنا ہے کہ صورتحال کا سنگین رخ یہ ہے کہ جب افراد خانہ اس معاملے کی نسبت متعلقہ پولیس اسٹیشن میں کیس درج کرانے کی غرض سے پہنچے تو پولیس اہلکاروں نے یہ کہہ کر بی ایس ایف کے خلاف کوئی کیس درج کرنے سے انکار کیا کہ چاروں نوجوان جنگجوہیں اور ان چاروں کی ہلاکت جھڑپ کے دوران واقع ہوئی۔ بعدمیں چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر کی مداخلت کے بعد پولیس نے معاملہ واقعہ کی نسبت کیس زیر ایف آئی آر درج کیا۔ غلام نبی نے دوران حراست قتل کئے گئے اس کے بیٹے کے عوض ریاستی حکومت سے ہرجانہ کا مطالبہ کیا ۔ چنانچہ عدالت میں اس کیس کی باضابطہ سماعت ہوئی جہاں مدعی کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے یہ دعوے بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں کہ مقتول سجاد احمد ایک جنگجو تھا اور جھڑپ کے دوران اس کی ہلاکت واقع ہوئی۔ انہوںنے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سجاد کی ہلاکت انٹروگیشن کے دوران واقع ہوئی ۔ مدعی وکیل نے عدالت سے مزید کہا کہ مقتول یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کررہا تھا او ر ۱۹۹۳کے آخر میں اس کی ڈگری مکمل ہوتی۔ عدالت میں کیس کے حوالے سے کئی گواہ پیش کئے گئے جنہوںنے سجاد احمد چودھری کی دوران حراست ہلاکت کے سلسلہ میں اپنا بیان قلمبند کروایا۔ اس دوران بی ایس ایف ۱۱۷بٹالین کے ہیڈکانسٹیبل سریندر سنگھ ، منوج کمار اور لانس نائیک ایل کے وِیاس نے غلام نبی چودھری کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی نفی کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس روز بی ایس ایف نے ۲۴نوجوانوںکو پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیاتاہم ان افراد میں سجاد احمد نام کا کوئی بھی نوجوان شامل نہیںتھا۔
عدالت میں جب مدعی کے وکیل نے بی ایس ایف کے اہلکاروں سے سوال جواب کیا تو انہوںنے کیس کی نسبت متضاد بیانات دئے۔ چنانچہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد محسوس کیا کہ بی ایس ایف اہلکاروں نے ان نوجوانوںکی ہلاکت کے سلسلہ میں جو دعویٰ کیا ہے، انہیں وہ ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ انہوںنے کہا کہ قانون اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ بی ایس ایف اہلکاروںنے سجاد احمد چودھری کو دوران حراست ہلاک کرکے افراد خانہ کو ذہنی اضطراب میں مبتلا کیا ہے۔عدالت نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ مقتول کے افراد خانہ میں دو لاکھ روپے کی رقم بطور ہرجانہ ادا کرے۔
|
دربار کھل جانے پرشہر کے راستے بند |
سرینگر/۵مئی................دربار موکے بعد سول سیکریٹریٹ کے دفاتر آج سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ریاست کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں کھل گئے جس کے نتیجے میں شہر میں گاڑیوں کی آمدورفت بری طرح سے متاثر ہوئی اور دن بھر جگہ جگہ ٹریفک جام دیکھنے کوملا۔تفصےلات کے مطابق شہر کی سڑکوں اور بازاروں میں گاڑیوں اور پیدل چلنے والے لوگوں کی غیر معمولی آمد ورفت دیکھنے کو ملی اور سیکریٹریٹ کی عمارت کے باہر حسب روایت لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں ۔دربار مو کی منتقلی کے موقعہ پر آج شہر سرینگر کی بیشتر سڑکوں اور بازاروں میں ٹریفک جام کا سلسلہ جاری رہا اور لوگوں کو عبورومرور کے حوالے سے کافی دقعتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سیکریٹریٹ کے باہر ایک قطار میں اندر داخل ہونے کا انتظار کر رہے بعض لوگوں نے کے این ایس کو بتایا کہ انہیں اندر داخل ہونے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجہ میں دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کا کافی وقت ضائع ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر سیکریٹریٹ کی منتقلی کا مقصد لوگوں کی حکومت تک آسان رسائی حاصل کرنا ہے تو سیکورٹی حدود کے اندر عام شہریوں کے سیکریٹریٹ کی عما رت میں داخلے کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے ۔ کچھ لوگوں کی یہ بھی شکایت تھی کہ دفاتر سرینگر میں کھلنے کے بعد بیشتر آئی اے ایس افسران بالخصوص کمشنر سیکریٹری اور چند وزراءجموں میں ہی قیام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو مسائل حل کرنے میں شدید مشکلات سے گذرنا پڑتاہے ۔ ادھر دربار مو کی سرینگر منتقلی کے بعد ٹریفک جام سے بچنے کےلئے بھی ٹرانسپورٹ نظام میںخصوصی تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں اورکئی علاقوںکی طرف جانے والی گاڑیوں کے روٹ تبدیل کئے گئے ہیں۔اس موقعہ پر شہر میں حسب روایت سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے تھے اور اہم سرکاری تنصیبات کے گردونواح میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے اضافی اہلکار تعینات کردئے گئے تھے ۔
|