Untitled Document
Google
Web
mashriqkashmir.com
Untitled Document

بے نام قبروں کی تحقیقات میں تعاون دیں گے :فوج 

سرینگر/۱۹ستمبر
فوج نے کہا ہے کہ وہ بے نام قبروں کی تحقیقات میں ریاستی سرکار کو مکمل تعاون دیگی ۔
فوج نے انسانی حقوق کمیشن کے ریاستی یونٹ کی طرف سے وادی میں گمنام قبروں کی تحقیقات کے حوالے سے ایک آزاد کمیٹی کی تشکیل کو مکمل تعاون دینے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو قومی مفاد کی خاطر تحقیقات میں مدد کی جائیگی ۔
۱۵ویں کور کے ہیڈ کوارٹر پر ایک تقریب کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے کور کے سربراہ جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹنٹ جنرل سید عطا حسنین نے آج کہا کہ انسانی حقوق کے ریاستی یونٹ کی طرف سے گمنام قبروں کی تحقیقات کیلئے ایک آزادانہ کمیٹی کی سفار ش کو اگر ریاستی سرکار عملی جامہ پہناتی ہے تو فوج کو اسے تعاون دینے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ 
جنرل حسنین ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تعاون اسی صورت میں ہوگا جب اس کی ضرورت پڑے گی اور مسئلہ قومی مفاد سے جڑا ہو۔ انہوں نے کہا’’گمنام قبروں کو لیکر فی الوقت کوئی رائے کرنا ہوا میں تیر مارنے کے برابر ہوگا البتہ میں یقین دلاتا ہوں کہ آرمی تحقیقاتی کمیٹی کو تعاون فراہم کرئیگی جہاں جہاں پر ضرورت پڑے اور و ہ تعاون قومی مفاد کیلئے ہو ۔‘‘

مذاکراتکاروں کی بارہمولہ میں پنچوں اور سر پنچوں سے ملاقات 

بارہمولہ /۱۹ستمبر
جموں کشمیر پر مرکز کے مذاکراتکاروں نے آج بارہمولہ میں پنچوں اور سر پنچوں سے ملاقات کی ۔
مذاکراتکاروں کی ٹیم نے آج دوسری بار بارہمولہ کا دورہ کیا اور وہاں ڈاک بنگلہ میں ضلع کے نو منتخب سرپنچوں و پنچ ممبروں کے ساتھ ملاقات کی ۔اس موقعہ پر ڈی سی بارہمولہ بشیر احمد بٹ کے علاوہ دیگر کئی افسران بھی موجود تھے جبکہ پنچوں و سرپنچوں نے مذاکرات کاروں پر زور دیا کہ وہ انہیں اختیارات فراہم کرانے کے حوالے سے کوششیں کریں اور انہیں اختیارات فراہم کرائیں۔
پنچوں نے کہا کہ مذاکرات کار مسئلہ کشمیر حل کرنے کی بھی کوششیں کریں اور اس میں تیزی لائیں جبکہ انہوں نے جنگجوؤں کے رشتہ داروں اور سابق جنگجوؤں کو پاسپورٹ فراہم کرنے کا بھی مسئلہ اٹھایا ۔
مذاکراتکاروں نے کہا کہ وہ آئندہ ماہ مرکزی حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرنے والے ہیں جس میں یہ سفارشات بھی مرتب کی جائینگی جبکہ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستا ن کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ۷ سو افراد نے گھر واپسی کیلئے درخواستیں دی ہیں جوکسی وجہ سے اُس پار کر گئے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ جو بھی واپس آنے کیلئے تیار ہوگا اس کا ہم خیر مقدم کیا جائیگا تاہم پاکستان نے اب تک اس میں مثبت رول ادا نہیں کیا ۔
مذاکرات کاروں نے کہا کہ عزت ‘انصاف اور انسانیت سے ہی مسئلہ کشمیر کو حل کیا جاسکتا ہے اور برصغیر میں قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ آرپار کی تجارت کو فروغ دینے اور تاجروں کی سہولیت کیلئے وہ مظفر آباد میں ایک اے ٹی ایم کونٹر کھولنے کی بھی سفارش کرینگے تاکہ تاجروں کو کسی بھی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

عید گاہ پر تنازعہ:اچھہ بل کا دوآبگاہ کا بائیکاٹ کا اعلان 

سوپور/۱۹ستمبر
سوپور میں عیدگاہ کی ملکیت پر چل رہے تنازعے کے پیش نظر اچھہ بل کے لوگوں نے دوبگاہ سے تجارت سمیت دیگر امورات میں ترک موالات کا اعلان کیا ہے ۔
اچھہ بل میں گزشتہ روز ایک اجلاس منعقد ہوا جس کے دوران اس بات کا فیصلہ لیا گیا کہ وہ دوبگاہ میں قیام پذیر لوگوں سے زندگی کے ہر شعبے میں ترک موالات کریں گے اور ان سے کوئی تعلق نہیں رکھا جائے گا۔اوقاف کمیٹی اچھہ بل کے صدر فیاض احمد ملک کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں متفقہ طور پر اس بات کا فیصلہ لیا گیا کہ مستقبل میں دوبگاہ کے لوگوں سے ترک موالات کیا جائے گا اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے روابط نہیں رکھے جائیں گے ۔ 
اس حوالے سے پتہ چلا ہے کہ اوقاف کمیٹی اچھہ بل نے جو میٹنگ طلب کی تھی اُس کے دوران یہ فیصلہ لیا گیا کہ دوبگاہ کے لوگوں اور عوام سے مستقبل میں کوئی رشتہ رکھا جائے گا اور نہ ہی ان کے ساتھ کسی قسم کا لین دین کیا جائے گا ۔ میٹنگ کے دوران اس بات کا فیصلہ بھی لیا گیا کہ اچھہ بل آئندہ دوبگاہ کے ساتھ تجارتی روابط بھی منقطع کرے گا اور کسی بھی تقریب میں شمولیت بھی نہیں کی جائے گی ۔ 
میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ دونوں علاقوں کے درمیان آئندہ کوئی بھی رشتہ نہیں رہے گا اور اس پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ اس دوران اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ دوبگاہ ہائیر اسکینڈری میں زیر تعلیم اچھہ بل کے ۲۰۰طلباء دوسرے اسکولوں کی طرف رخ کررہے ہیں ۔ ہائیر اسکینڈری میں تعینات ایک درجن اساتذہ نے بھی مذکورہ اسکول سے کسی دوسرے اسکول میں منتقل کرنے کے حوالے سے اپنی تگ دو تیز کردی ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ دوبگاہ کے لوگوں کو نہیں پڑھائیں گے ۔
دوآبگاہ اور اچھہ بل جو دونوں عید گاہ کے دعویدار ہیں میں تناؤ اور کشیدگی کا ماحول اس وقت بھی قائم ہے اور آپسی رشتوں کو ختم کرنے کے بعد اس میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے ۔ 

سوپور حراستی ہلاکت کی رپورٹ اگلے ہفتے پیش کی جائیگی 

سرینگر/۱۹ ستمبر 
سوپور کے نوجوان ناظم رشید کی مبینہ حراستی قتل کی رپورٹ اگلے حکومت کو پیش کی جائیگی ۔
ایس ڈی ایم سوپورہ محمد احسن میر جو اس واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں نے ناظم رشید کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کے علاوہ پولیس اور معتدد گواہوں کے بیانات قلمبند کرلئے ہیں ۔ محمد احسن میر نے کہا کہ رپورٹ مکمل ہوچکی ہے اور وہ اگلے ہفتے رپورٹ ریاستی سرکار کو پیش کریں گے ۔
تحقیقاتی آفیسر نے بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹروں اور پولیس اہلکاروں کے علاوہ اس قتل سے جڑے گواہوں کے بیانات قلمبند کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ناظم رشید کی ہلاکت ایک حراستی قتل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ اس رپورٹ کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ سوپورکے اس نوجوان کا قتل حراست کے دوران ہوا ۔
محمد احسن میر نے کہا کہ وہ تو رپورٹ پیش کریں گی لیکن اس پر آگے کی کارروائی اب سرکار کرسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کام صرف رپورٹ مرتب کرنا تھا ‘اس پر عمل کرنا سرکار کا کام ہے ۔


Untitled Document
Untitled Document
© COPY RIGHT THE DAILY NIDA-I-MASHRIQ ::1992-2007
POWERED BY WEB4U TECHNOLOGIES::e-mail