Untitled Document
Google
Web
mashriqkashmir.com
Untitled Document
انتخابی عمل پر یقین ہوتا تو خود انتخابی میدان میں آتے، انتخابات کو مسلہ کشمیرسے علیحدہ کرنے کی ضرورت ہے:میرواعظ
سرینگر/۵مئی(ہارون رشید)....................اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہ حریت کانفرنس آئندہ اسمبلی انتخابات میں درپردہ امیدوار کھڑا کرے گی حریت کے چیرمین‘میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ حریت۱۹۴۷ءکے بعد اب تک اسمبلی انتخابات پر قرطاس ابےض لانے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ اس نمائندے کے ساتھ ایک انٹرویو میں عمر فاروق نے کہا کہ حریت اگر انتخابات میں یقین رکھتی تو پھر خود انتخابی میدان میں اتر تی ۔انہوں نے کہا کہ حریت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے محو جد وجہد ہے اور مسئلہ کشمیر کو انتخابات سے الگ کرنے کی ضرورت ہے ۔حریت چیر مین نے کہا کہ حریت کسی بھی طور انتخابات سے وابستہ نہیں رہے گی کےونکہ ان کے الفاظ میں یہ ایک نقصان دہ عمل ہے ۔انہوں نے انکشاف کیا کہ حریت کانفرنس ۱۹۴۷ءسے اب تک کے کشمیر میں ہوئے انتخابات کے حوالے سے ایک قر طاس ابےض بھی سامنے لانے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔
انٹرویو کے دوران حریت کے چیرمین اس بات پر بار بار زور دیتے رہے ”ہمیں مسئلہ کشمیر کے حل پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ ردعمل والی سیاست سے اجتناب کرنا چاہےے۔“اس کی وضاحت کرتے ہوئے میر واعظ نے کہا کہ ابھی انتخابات والے نکلے نہیں اور بائیکاٹ والے نکل گئے ہیں ۔انہوں نے اسے ردعمل والی سیاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کر کے ہم دلی کو ہمارے لئے اےجنڈا مرتب کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔جبکہ حریت چیرمین کے الفاظ میں ہونا تو یہ چاہےے تھا کہ ہم اےجنڈا طے کرکے اس پر دلی کو ردعمل ظاہر کرنے کیلئے مجبور کرتے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے اےجنڈا کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا تحریک آزادی کیلئے فائدہ مند نہیں ۔عمر فاروق نے کہا کہ انتخابات ’ امن عمل کا بھی نعم البدل نہیں ہو سکتا ہے اس لئے اسے مسئلہ کشمیر سے الگ کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زےر انتظام کشمیر ‘ جوکہ ریاست کا ایک حصہ ہے میں بھی انتخابات ہوتے آئے ہیں لیکن وہ(انتخابات) بھی اس مسئلہ کے حل کا حصہ نہیں بن سکیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات ‘ مسئلہ حل کرنے کیلئے کوئی پل نہیں بن سکتے ہیں۔انہوں نے بعض ہند نواز سیاسی جماعتوں کے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ انتخابات ‘ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
تو کیا حریت کانفرنس آنے والے انتخابات میں بائیکاٹ مہم نہیں چلائےگی؟اس سوال کے جواب میں حریت چیر مین کا کہنا تھا کہ حریت لوگوں سے ضرور کہے گی کہ وہ خود کو انتخابی عمل سے الگ رکھیں لیکن کیا گھر گھر جا کر بائیکاٹ مہم چلائے گی اس کا فےصلہ میر واعظ کے مطابق حریت نے ابھی نہیں لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حریت لوگوں سے کہی گی کہ وہ انتخابات کو مرکزی اشو بنا کر دلی کو یہ تاثر نہ دیں کہ انتخابات مسئلہ کشمیر کے حل کا نعم البدل ہے ۔عمر فاروق نے کہا کہ حریت کا گرچہ مرکزی نقطہ مسئلہ کشمیر کا حل ہے لیکن ساتھ ہی عوامی مسائل اٹھانے میں بھی وہ کوئی عار محسوس نہیں کرےگی ۔انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کو اٹھانے میں کوئی حرج نہیں اور ان کے بقول جامع مسجد میں خطبہ جمعہ کے دوران خود وہ ان مسائل کو اٹھا تے رہتے ہیں ۔اس ضمن میں ایک سوال کے جواب میں میر واعظ نے کہا کہ ایسا کر کے حریت تحریک آزادی کا رخ نہیں موڈ رہی ہے کےونکہ حریت اسی صورت میں کامیاب ہو جائےگی جب یہ لوگوں کے ساتھ جڑی رہے گی ۔
حریت کے چیرمین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ دلی کشمیر میں انتخابات کو ہندوستان کیلئے ووٹ قرار دیتی ہے لیکن حریت چیرمین کے مطابق”انتخابات کے با وجود کشمیر ایک مسئلہ ہے اور یہ ایک اےسی حقےقت ہے جو تبدیل نہیں ہو سکتی ہے ۔“اگر انتخابات سے مسئلہ کشمیر کی ہےئت تبدیل نہیں ہو سکتی ہے تو پھر تحریک آزادی کے ابتدا سے علےحدگی پسندوں نے انتخابات کو اتنی اہمیت کیوں دیکر اپنی ساری توانائی لوگوں کو اس عمل سے دور رکھنے پر صرف کی ؟حریت چیر مین نے جواب میں اعتراف کیا کہ ماضی میں معاملات کو سمجھنے اور انہیں صحیح انداز میں پےش نہیں کیا گیا ۔
عمر فاروق مستقبل قریب میں مسئلہ کشمیر میں کسی بڑی پےش رفت کی توقع نہیں رکھتے ہیں کےونکہ ان کے مطابق دلی کی سوچ اور نظریہ میں اب بھی کوئی تبدیل نہیں آئی ہے ۔اور اسی بات کو بنیاد بنا کر موصوف کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں وقت لگے گا۔ان کا ماننا ہے کہ مشرف کے دور اقتدار میں دلی نے موقع گنوا دیا”جب بات بات بن سکتی تھی۔“انہوں نے کہا کہ مشرف نے جو چار نکاتی تجویز پےش کی تھی اس سے جمود کو توڑنے میں مدد مل سکتی تھی ۔ان کے مطابق یہ تجویز ”صحیح اور مثبت “ تھی جس پر گزشتہ سال (مارچ ۲۰۰۷ئ) تک کچھ کام بھی ہو رہا تھا لیکن پھر پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال کے بعد یہ سب کچھ پش پشت چلا گیا۔حریت چیرمین نے انٹرویو میں یہ تاثر دےنے کی کوشش کی کہ مشرف کی اس تجویز کو پاکستان کی اہم سیاسی جماعت ‘ پاکستان پےپلز پارٹی جوکہ امسال ۱۸ فروری کے انتخابات کے بعد اقتدار میں آگئی کی بھی حمایت حاصل تھی ۔انہوں نے کہا ”میں جب بے نظےر(پی پی پی کی مقتول سربراہ) سے ملا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ ان کی جماعت کو مشرف کے ساتھ کوئی پرابلم ہو سکتی ہے جہاں تک ان کی کشمیر پالےسی کا تعلق ہے تو اس حوالے سے وہ صدر کے ساتھ تھیں۔“شاےد یہی بات میر واعظ کو امید دلارہی ہے کہ پاکستان میں نئی حکومت کی کشمیر پالےسی زیادہ مختلف نہیں ہو سکتی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ مشرف کی اس تجویز میں سبھی فرےقوں کو جیت کا احساس ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ چار میں سے تین تجاویز پر تو دلی میں بھی اتفاق پایاجا تا ہے لیکن جہاں تک مشترکہ منےجمنٹ کا تعلق ہے تو وہ اس کیلئے تیار نظر نہیں آ رہی ہے۔حریت چیر مین ‘نے واضح کیا کہ یہ چار نکاتی تجویز مسئلہ کشمیر کا حتمی حل نہیں بلکہ اس جانب ایک قدم ثابت ہو سکتا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیر ایک پےچےدہ مسئلہ ہے جسے مرحلہ وار بنیادوں پر چل کر ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
حریت کانفرنس کے چیر مین اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ دلی کے ساتھ اس کی بات چیت حریت آئےن سے انحراف تھا۔ان کا کہنا ہے کہ ایسا کر کے حریت کے آئےن کی خلاف ورزی نہیں کی گئی تھی لیکن ایک نئی سوچ سامنے ضرور لائی گئی تھی ۔عمر فاروق کے مطابق دلی ‘ کشمیر پر سہ فرےقی بات چیت کیلئے تیار نہیں تھی اور اسی لئے تکونی بات چیت کا سہارا لےنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ حریت مسئلہ کشمیر کا وہ حل چاہتی ہے جو لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہو اور اس کیلئے حریت کوششیں کرتی رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی قیادت سے کچھ توقعات ہو تی ہیں اور قیادت ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بےٹھ سکتی ہے اگر اسے جوں کی توں کو تبدیل کرنا ہو۔حریت چیر مین نے کہا کہ کشمیریوں کو صرف شہےد اور مرتے ہی رہنا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ اپنے موقف پر ڈٹے رہتے ہوئے سوچ کے دروازے بند نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ اصول اور موقف سے انحراف کے بغیر اگر ہندوستان ‘ پاکستان اور کشمیریوں میں مفاہمت کا کوئی راستہ نکل آتا ہے تو اس کیلئے حریت کوشش کرتی رہے گی ۔حریت چیر مین نے کہا کہ آج بھی ہندوستانی یا پاکستانی نہیں بلکہ کشمیری ہی مررہا ہے ۔
عمر فاروق نے اس بات کا اعتراف کیا کہ دلی کے ساتھ بات چیت میں مسئلہ کشمیر پر کوئی خاطر خواہ پےش رفت نہیں ہو ئی۔”دلی سے کچھ نہیں لائے لیکن سودا بازی بھی نہیں کی ۔اگر سودا بازی کی ہوتی تو آج جہاں آزاد (وزےر اعلیٰ) بےٹھے ہیں وہاں ہم بےٹھے ہو تے ۔“حریت چیرمین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مذاکراتی میز پر دلی کا کےس کمزرو اور ہمارا طاقتور ہونے کے با و جود ہم اس سے کوئی استفادہ حاصل نہیں کر پا رہے ہیں ۔ اس کی وجہ حریت چیرمین کے مطابق علےحدگی پسندوں میں اتفاق رائے نہ ہونا ہے ۔انہوں نے کہا ” دلی کے ساتھ ہماری بات چیت دھوکہ دہی اور غداری قرار دی جا رہی ہے ‘حالانکہ دلی کے ساتھ ہماری بات چیت تحریک کا حصہ ہے ۔“انہوں نے دعویٰ کیا کہ دلی سے ایک فرےق کے طو پر بات چیت کی اور دلی نے ہماری اس حےثیت کو تسلےم بھی کیا ۔ایک ایسا دعویٰ جس کو ہندوستان کے سابق نائب وزےر اعظم ‘ ایل کے اےڈوانی اپنی کتاب میں مسترد کرچکے ہیں ۔ تاہم عمر فاروق یہ مانتے ہیں کہ دلی کے ساتھ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب کوئی قدم نہیں اٹھ سکا لیکن ان کے الفاظ میں جمود کو ضرور توڑ دیا گیا اور ساتھ ہی اس تاثر کو بھی زائل کردیا گیا کہ کشمیر کی علےحدگی پسند قیادت پاکستان کے اشاروں پر چلتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگ قیادت پر بھروسہ کریں کہ”ہم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جو ان کےخلاف ہوگا۔“عمر فاروق نے کہاکہ کشمیرمیں کوئی بھی لیڈر چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہوعوامی تحریک اور جذبات کو نظر انداز نہیں کر سکتا ہے۔حریت چیر مین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے متبادل راستہ تلاش کرنا کفر ہے اور نہ غداری ۔انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا غداری نہیں بلکہ تحریک کو آگے لےجانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہل ہمیں کرنی ہے کےونکہ سب سے زیادہ کشمیری سفر کررہے ہیں ‘تاکہ ہم پر کوئی یہ الزام بھی عائد نہ کر سکے کہ ہم مسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی رکاوٹ ڈا ل رہے ہیں۔
حریت چیر مین نے کہا کہ پاکستان کی نئی حکومت کی جانب سے اسلام آباد کا دورہ کرنے کی دعوت متوقع ہے ۔انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس جون میں پاکستان کا دورہ کر سکتی ہے ۔ عمر فاروق نے کہا کہ دلی کے ساتھ اس وقت کوئی رابطہ نہیں ہے ۔جب ان سے دریافت کیا گیا کہ مستقبل قریب میں اگر دلی حریت کو با چیت کی میز پر بلا ئےگی تو ان کا جواب کیا ہوگا؟حریت چیر مین نے کہا کہ بات چیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتی ہے اور ساتھ ہی دلی کو اپنے رویہ میں تبدیلی لانی ہو گی ۔عمر فاروق نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ کشمیر میں ہند نواز سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سرگرم ہو گئی ہیں یا انہوں نے علےحدگی پسندوں کے اےجنڈا کو ہائی جیک کیا۔ انہوں نے کہا کہ حریت نے جب دلی کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کیا تو اس پر واضح کیا گیا کہ اصل مسئلہ دلی کا علےحدگی پسندوں کے ساتھ ہے نہ کہ ہند نواز جماعتوں کے ساتھ ۔عمر فاروق نے کہا کہ حریت کانفرنس نے دلی کو کبھی کشمیر کی ہند نواز سیاسی جماعتوں کو نظر انداز کرنے کو نہیں کہا تھا لیکن دلی نے گول میز کانفرنس بلا کر حریت کے ساتھ بےچ راستے ہی بات چیت چھوڑ دی عمر فاروق نے کہا کہ ایسا کر کے دلی نے بد مزگی پےدا کی حالانکہ اس کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ دونوں فرےق الگ الگ کمیٹیاں نامزد کریں گی جو بعد میں مشترکہ طور پر کشمیر کے حوالے سے تمام باتو ں کا جائزہ لیں گی ۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد جب کسی بات پر اتفاق رائے پےدا ہوتا تونہ صرف کشمیر بلکہ آزاد کشمیر میں بھی گول میز کانفرنس جےسا کوئی اجلاس منعقد کیا جا سکتا تھا ۔حریت کے ساتھ بات چیت کو بےچ راستے ہی چھوڑنے کی آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ پر حریت چیرمین کا کہنا تھا کہ دلی میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دو سوچیں پائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک تو یہ کہ اس مسئلہ کو پاکستان کے ساتھ مل کر حل کرنے کی سوچ۔اور دوسری یہ کہ پاکستان کمزور ہو رہا ہے اس لئے اس مسئلہ کو لٹکائے رکھو۔عمر فاروق نے کہا اس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ دلی کی کشمیر کے حوالے سے پالےسی واضح نہیں ہے ۔
کیا کشمیر کی علےحدگی پسند قیادت آزادنہ طور پر کام کرتی ہے یا اس کا ریموٹ پاکستان کے پاس ہے ؟استفسار کرنے پر حریت کانفرنس کے چیر مین نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی‘ اخلاقی سیاسی مدد کرتا ہے ۔انہوںنے اعتراف کیا کہ اسلام آباد تحریک آزادی کو چلانے کیلئے مالی امداد بھی کرتا آیا ہے لیکن انہوں نے واضح کیا کہ جس طرح پاکستان ”پاکستان پہلے “ کا نعرہ دیتا ہے ایساہی نعرہ کشمیریوں کا بھی ہونا چاہئے .... کشمیر پہلے ۔انہو ں نے کہا کہ مشرف نے حریت کو دلی کی دعوت پر گول میز کانفرنس میں شرکت کرنے کو کہا تھا جسے حریت نے ٹھکرا دیا ۔البتہ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ دلی اور اسلام آباد کو ایک ہی ترازو میں نہیں تول سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زےر انتظام کشمیر میں پاکستان کےخلاف کوئی تحریک نہیں چل رہی ہے لیکن پھر بھی مشرف نے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ گلگت اور بلتستان کو بھی مذکراتی میزپر لانے کی پےش کش کی ۔عمر فاروق نے کہا کہ جب دلی میں چند سال پہلے ان کی ملاقات مشرف سے ہوئی تو صدر پاکستان نے مجھے بتایا” کشمیر کے حوالے سے ہم سے بڑی غلطیاں ہوئی ہیں ۔پاکستان یہ دیکھتا آیا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے اسے کیا ملے گانہ کہ یہ کہ کشمیریوں کو کیا ملے گا۔اب ہم یہ سوچنے کیلئے تیار ہیں کہ کشمیریوں کیا ملے گا۔“عمر فاروق نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے مشرف جتنے مخلص ہیں اتنا انہوں نے کسی اور پاکستانی لیڈر کو نہیں پایا ۔عمر فاروق نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حریت کانفرنس کی کوششوں کو عسکریت پسندوں کی حمایت حاصل نہیں ہے جسکی وجہ میر واعظ کے مطابق ”کچھ غلط فہمیاں “ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند بھی یہ محسوس کریں کہ حریت جو کچھ بھی کررہی ہے وہ تحریک کا ہی حصہ ہے ۔
حریت چیرمین نے کہا کہ حریت یتےموں اور بےواوں کی کفالت کرنے کی پوزےشن میں نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حریت تھوڑی بہت مدد کرتی ہے لیکن ان کے الفاظ میں وسائل کی بہت کمی ہے ۔عمر فاروق نے کہا کہ اسلامی ممالک کی تنظےم ’ او آئی سی کشمیریوں کی مدد کےلئے تےار ہے ‘لیکن وہ اےساسرکاری طور پر کرنا چاہتی ہے جبکہ صورتحال یہ ہے کہ دلی نے اس کی زلزلے سے متاثرہ افراد کےلئے امداد تک کی پےشکش قبول نہیں کی ۔عمر فاروق کا کہنا ہے کہ علےحدگی پسندوں کے مالی وسائل کے حوالے سے دلی پروپےگنڈا کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا”بڑی لےول پر فنڈنگ نہیں ہو رہی ہے لیکن اس ضمن میں دلی نے بہت بڑا پروپےگنڈا کےا ہے ۔“۔انہوں نے کہا کہ تحریک چلانے کےلئے پےسے چاہےے لیکن پےسوں کےلئے اگر تحریک چلائی جائے تو اس سے بڑی شرم کی اور کےا بات ہو سکتی ہے ۔حریت چیرمین نے کہا کہ تحریک چلانے کےلئے گاڑیوں اور کارکنوں کی ضرورت پڑی ہے ۔اس کےلئے جو کچھ بھی مالی مدد آتی تھی اس پر دلی نے قدغن لگائی ہے ۔
حریت کانفرنس کے چیر مین نے کہا کہ سفارتی طور پر کشمیر کے حوالے سے سرگرم ہونے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوسوو ‘ تےمور اور کسی حد تک فلسطین سفارتی سطح پر سرگرم رہنے سے ہی کامیاب ہو گئے ‘ لیکن ان کے الفاظ میں کشمیر کے حوالے سے ایسا نہیں کہا جا سکتا ہے ۔عمر فاروق نے کہا کہ سفارتی سطح پر پاکستان اور ہندوستان نہ کہ کشمیریوں کی بات سامنے آتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بےرون دنیا تک پہنچنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کشمیر کا مسئلہ محض سیاسی ہی نہیں بلکہ انسانی اور اقتصادی بھی ہے ۔حریت کانفرنس کے چیر مین نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں سیاسی آزادی چاہئے لیکن اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ” اب دنیا آزادی سے باہمی انحصار کی جانب بڑھ رہی ہے۔“کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں حریت کانفرنس کے چیر مین کا کہنا تھا کہ دلی نے پنڈتوں کے کشمیر انخلاءکو بےرون دنیا میں ایک پروپےگنڈا کے طور استعمال کیا تاکہ دنیا کویہ تاثر دیا جا سکے کہ کشمیری مسلمانوں نے کشمیری ہندووں کو نکال باہر کیا۔عمر فاروق نے کہا کہ یہ تاثر صحیح نہیں ہے اور اس کو کامیاب نہیں ہونے دیا جانا چاہےے۔انہوں نے کہا کہ کچھ پنڈت لیڈر مخلص ہیں لیکن بہت ساروں کو اس منفی پروپےگنڈ میں استعمال کیا گیا ۔البتہ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ۱۹۹۰ءمیں بعض کشمیری لیڈروںنے غیر ذمہ دارانہ بیانات دئے ۔انہوں نے کہا” ہم سے ماضی میں غلطیاں ہوئیں۔“اس کی وضاحت کرتے ہوئے میر واعظ نے کہا کہ” ہم نے پنڈتوں کو یہ احساس نہیں دلایا کہ آپ ہمارا ہی حصہ ہیں ۔اقلیت خوف کا جلد شکار ہو تی ہے‘ہم نے ان کوتحفظ کا احساس نہیں دلایا۔حریت چیرمین نے البتہ یہ بھی کہا کہ پنڈتوں کے انخلاءمیں اس وقت کے گورنر جگموہن کا بھی رول رہا ۔انہوںنے کہا کہ کشمیری پنڈت اس بات کو اب سمجھ رہے ہیں اور حریت کی کوششوں سے دس بارہ کنبے واپس لوٹ آئے ۔
انٹرویو کے آخر پر اس سوال کے جواب میں کہ کیا ” ہم کیا چاہتے آزادی کا نعرہ گردش ایام میں تحلیل ہو گیا ہے ؟“حریت چیرمین نے کہا ” یہ کوئی کھوکھلا نعرہ نہیں ۔لیکن اس نعرے (آزادی) کے مختلف پہلو ہیں ۔جوں کی توں پوزےشن کا توڑ اس میں شامل ہے ۔میں لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کے جذبات کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جائےگا۔“
Untitled Document
Untitled Document
© COPY RIGHT THE DAILY NIDA-I-MASHRIQ ::1992-2007
POWERED BY WEB4U TECHNOLOGIES::e-mail