|
گیلانی گروپ کو چھوڑ کر اب جبکہ حریت کانفرنس (م) کا اجتماع (اتحاد) تقریباً مکمل ہو چکا ہے‘ سبھی حریت لیڈروں کو ”سینئر لیڈرشپ“ کا اعزاز بھی حاصل ہو چکا ہے اور وہ سبھی اختلافات‘ احساس کمتری یا احساس برتری‘ تضادات اور کچھ ایک مفادات کے حوالے سے کم و بیش سارے تنازعات جو پارٹیوں سے علیحدگی یا اِن کے دوپھاڑ ہو جانے کا موجب بنتے رہے تھے بھی باقی نہیں رہے لہذا اِس ضرورت کو عوامی سطح پر شدت کے ساتھ محسوس کیا جا رہا ہے کہ حریت کی اجتماعی قیادت محلہ سطح پر اپنی جنگ جیتنے کے حوالہ سے جھنڈے گارڈنے پر وقت ضائع کرنے کی بجائے اب ان اہم معاملات کی طرف اپنی اولین توجہ مبذول کرے جو سنگین رُخ اختیار کرتے جا رہے ہیں‘ جو سیاسی اہمیت سے کہیں زیادہ انسانی نوعیت کے ہیں اور جنہوں نے سینکڑوں گھرانوں اور خاندانوں کا چین اور سکون چھین رکھا ہے۔
ان سنگین نوعیت کے معاملات میں ایک اہم معاملہ کا تعلق ان کشمیری نظر بندوں سے ہے جنہیں جرم بے گناہی کی پاداش میں سرینگر سے لے کر کنیا کماری اور گجرات سے لے کر شمال مشرقی ریاستوں کی راجدھانیوں تک مختلف ریاستوں کی پولیس نے پکڑ پکڑ کر محض اس لئے سلاخوں کے پیچھے ڈالدیا کہ وہ کشمیری ہیں۔ انتہا پسندی‘ دہشت گردی‘ جنگجوئیت کی لیبل چسپاں کر کے ان کی زندگیوں کو دا¶ پر لگا دیا گیا۔ اس تعلق سے دہلی پولیس کا رول نمایاں رہا ہے جس کا بین ثبوت عدالتوں کے اِن فیصلوں کی صورت میں بھی سامنے ہے جن کے تحت جرم بے گناہی میں پکڑے کئی ایک کشمیریوں کو باعزت بری کر دیا گیا‘ یہاں تک کہ سی بی آئی نے بھی اپنی حالیہ رپورٹوں میں ایسے ہی چند ایک معاملات کی نشاندہی کر کے پولیس کے جانبدارانہ اور کشمیریوں کے تئیں متعصبانہ رول کی نقاب کشائی کی ہے۔ نظر بندوں کی حالت زار پر اظہار تشویش تو حق بجانب ہے لیکن محض اظہار سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا اور نہ ہی اس طرز عمل سے متاثرہ کنبوں کی کوئی پریشانی دور ہو سکتی ہے۔
بے شک وقفے وقفے سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ نظر بندوں کے کیسوں پر نظرثانی کی جائے اور انہیں رہا کر دیا جائے۔ لیکن بحیثیت مجموعی حریت نے آج تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ دہلی کے ساتھ مذاکراتی عمل کے بھی کئی دور ہوئے لیکن ان مذاکرات کے دوران مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مختلف نظریات اور پہلو¶ں پر جو بات ہوتی ہے اس کی نوعیت محض ”اکیڈیمک“ ہوتی ہے۔ مسائل کا تذکرہ محض ایک مخصوص بھرم قائم رکھنے کی نیت یا مقصد کے تحت کیا جاتا ہے۔ کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنی چند ایک رپورٹوں میں ایسے کئی نظر بندوں کی نشاندہی کی ہے جو بغیر کسی گناہ یا جرم کے جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ درپیش نہ ہوتا تو کوئی کشمیری غالباً جیل میں نہیں ہوتا۔ مسئلہ کشمیر پر مذاکراتی عمل آسان نہیں اور نہ ہی یہ توقع ہے کہ دلی کے ساتھ براہ راست بات کر کے اس کا کوئی فوری حل ممکن ہے لیکن مسئلہ کی پیداوار جو دوسرے مسائل ہیں انہیں ایڈریس کیا جا سکتا ہے اور ان کا حل تلاش کرنے کےلئے خود حریت کے اندر ایک قابل عمل اور صریح الحرکت میکانزم تشکیل تو دیا جا سکتا ہے۔ اگر متحدہ فورم کے اندر صلاحیت اور اہلیت ہے تو اس میکانزم کو تشکیل دیا جا سکتا ہے لیکن اگر نہیں تو فورم کی حیثیت کاغذی اور اس کی ہیئت ترکیبی کے حوالے سے پھر کئی سوال ذہن میں ابھر رہے ہیں۔
حریت کانفرنس اور اس کی قیادت اپنی تمام تر توانائی‘ توجہ اور وزن کا زائد از ۰۸ فیصد بیان بازی‘ جمعہ اجتماعات سے خطاب اور اسی نوعیت کی چند ایک بلا مقصد اچھل کود پر صَرف کرتی ہے۔مہاتما گاندھی‘ قائد اعظم محمد علی جناح‘ جواہر لال نہرو اور غیر منقسم ہندوستان کی مشترکہ قیادت کی مصروفیات اور اپروچ پر آج بھی جب نگاہ دوڑائی جاتی ہے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سیاسی نوعیت کے امورات کے ساتھ ساتھ وہ اپنی قوم کو درپیش دوسرے نوعیت کے معاملات کو کس سنجیدگی کے ساتھ ایڈریس کر کے ان کا حل تلاش کیا کرتے تھے۔ وہ خود نظر بندوں کے مقدمات کی عدالتوں میں حاضر ہو کر پیروی کیا کرتے تھے اور سڑکوں پر آکر خود ایجی ٹیٹ کیا کرتے تھے جبکہ ہماری قیادت کے دعویداروں نے اِن معاملات کو ابتداءسے لیکر ہی ثانوی درجہ کے حامل قرار دے کر انہیں نظر انداز کرتی رہی۔نتیجہ مسائل کا حجُم ہمالیائی بلندیاںاختیار کرتا گیا۔ حریت قیادت جب بھی اپنے دفاتر سے باہر آتی ہے تو ان کی اگلی منزل ہوائی جہاز ہوتا ہے۔
کشمیری قوم بحیثیت مجموعی سنگین ترین معاملات سے جوج رہی ہے اور اپنی بقاءکی جنگ لڑ رہی ہے۔ جس امن کو دیکھا جا رہا ہے اور جس پر بہت سارے حلقے اطمینان ظاہر کر کے اس کا کریڈٹ بھی لے رہے ہیں حقیقت میں ایک نئے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ اپنے رُتبے‘ سیاسی اثر و رسوخ اور مراعاتی سیاست کے بل بوتے پر اعلیٰ پیشہ ورانہ اداروں میں داخلہ‘ ملٹی کروڑ ٹھیکوں کا حصول‘ سرکاری عہدوں پر چور دروازے سے بھرتی‘ من پسند پوسٹوں پر تعیناتی‘ زندگی کے مختلف شعبوں کے تعلق سے مختلف مراعات اور مفادات کا حصول وغیرہ اپنے منظور نظروں کےلئے حاصل کر کے انہیں اس بات پر اپنی جگہ اطمینان ہے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے لیکن زمینی سطح پر جن حالات کا سامنا ایک اوسط شہری کو ہے بدقسمتی یہ ہے لیڈرشپ کو اس کا زرہ بھر بھی احساس نہیں ہے۔ انہیں اس بات کا بھی احساس نہیں ہے اور اگر احساس ہے تو ندامت یا شرمندگی نہیں کہ حکومتی سطح پر کشمیر کی سیاسی صورتحال کو ایک آڈ بنا کر کشمیریوں کے انفرادی اور اجتماعی حقوق اور مفادات کے ساتھ ایک زبردست کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ ایک منظم منصوبے اور غیر محسوس حکمت عملی کے تحت انہیں محروم کیا جا رہا ہے۔ لوٹ اور استحصال قدم قدم پر نظر آرہا ہے۔ معاشرہ تنزل اور انحطاط کی طرف گامزن ہے۔ اعلیٰ اصولوں‘ عظیم کشمیری روایات اور اقدار کا جنازہ نکالنے کا عمل جاری ہے۔ قوم کی سینکڑوں بیٹیاں ان لوگوں کے ساتھ ازدواجی زندگیوں کے بندھنوں میں باندھی جا چکی ہیں جن کے ساتھ نبرد آزما ہو کر ہزاروں نوجوانوں نے اپنی گردنیں کٹوا کر کشمیر کے طول و ارض میں قبرستانوں کو آباد کیا۔ اس سے بڑھ کر اس قوم کا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
یہ سب کچھ قوم کی سیاسی اور نہ ہی مختلف مسلکی خانوں سے وابستہ مذہبی قیادت کے دعویداروں کو نظر آرہا ہے۔ شاید اس وجہ سے کہ اگر وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے‘ کوئی تحریک منظم کریں گے‘ سڑکوں پر آجائیں گے تو شاید ردعمل میں ان کے حاصل کردہ مراعات اور رُتبہ پر آنچ آجائیگی انسانی حقوق کی پامالیوں کی بات تو یہ لوگ کر رہے ہیں لیکن کشمیر کے سیاسی اور درپیش معاملات کے تناظر میں اب یہ کوئی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کشمیری قوم کی منفرد اور مخصوص شناخت ختم ہوتی جا رہی ہے‘ اس معاشرے کا زوال شروع ہو چکا ہے اور یہ اب مکمل تباہی اور بربادی کی طرف پیشقدمی کر رہا ہے تو اس کا تحفظ کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے؟ پروفیسر غنی بٹ کو اس کی فکر نہیں اور نہ ہی کشمیر کے قائد انقلاب گیلانی کو اپنی قوم کی مخصوص شناخت‘ منفرد حیثیت اور تشخص کہیں تحلیل ہوتا نظر آرہا ہے۔ کیونکہ پروفیسر صاحب کو صرف اس بات کی فکر ستا رہی ہے کہ کہیں پاکستان میں پرویز مشرف اپنی سیاسی بقاءکی جنگ نہ ہار جائیں اور گیلانی حق خودارادیت کے خول سے باہر جھانکنے کےلئے تیار نہیں۔ کہتے ہیں اور تاریخ کی کتاب میں کہیں کسی جگہ پڑھا ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو اس کا بادشاہ نیرو کہیں اور بانسری بجانے میں بدمست تھا۔ یہی حال کشمیر کا ہے۔ کشمیر جل رہا ہے‘ قوم تباہ ہو رہی ہے‘ معاشرہ اپنی تمام تر خصائل سے محروم ہوتا جا رہا ہے‘اور قیادت کے سبھی دعویدار اپنے اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کےلئے مختلف محازوں پر سرگرم نظر آرہے ہیں۔ ان کے یہ مفادات اس قدر گہرے اور ان کےلئے عزیز اور محترم بن چکے ہیں کہ یہ اتحاد کی ایک لڑی میں پروسنے کےلئے تیار نہیں اور اتحاد کے سوال کو لے کر ایک دوسرے پر الزامات اور طعنوں کی بارش کر رہے ہیں۔
کشمیر کے سیاسی مستقبل کے تعین کے حوالہ سے کشمیر کاز میں کوئی خرابی نہیں تھی اور نہ ہی کسی حوالے سے یہ عوام کے فطری میلانات سے کہیں متصادم نظر آرہا تھا۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اس کاز کو فروخت کرنے کےلئے بہت سارے دکاندار سامنے آئے‘ اور اپنی دکانیں سجا بیٹھے۔ کچھ نے کشمیر کے اندر یہ دکانیں سجائی‘ کچھ نے کشمیر کے نام پر ہندوستان اور پاکستان کے راستوں سے غیر ممالک میں ان دکانوں کو آراستہ کیا۔ کسی حلقے نے کشمیر کاز کو کشمیر کی مکمل آزادی اور خودمختاری سے منسلک قرار دیا‘ تو کسی نے اسے آزادی برائے اسلام کی جنگ قرار دے دیا۔ کوئی اس کو اپنی شہہ رگ کی حصول کا جنگ تو کوئی اپنی اٹوٹ انگ کے تحفظ کی جنگ قرار دے رہا ہے۔ حقیقت میں یہ جنگ کیا ہے اور کس نوعیت کی ہے اس سوال کا جواب اب ہماری نوجوان نسل کے پاس بھی نہیں ہے کیونکہ دکانداروں نے کشمیر کاز کے نام پر اتنی اشیاءبرائے فروخت سجاکے رکھی ہیں کہ اب خریداروں کےلئے یہ تمیز کرنا نا ممکن بن چکا ہے کہ خریداری کےلئے اِن کی پسند کی اصل کیا ہے؟
لوگ اپنی کھلی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں‘ محسوس کر رہے ہیں لیکن بے اعتنائی اور بے رُخی اب ان کے مزاج میں سرائیت اور نفسیات کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ جب قوموں کا ضمیر حساس‘ نازک اور بے حد پیچیدہ معاملات کے تعلق سے سوجاتا ہے تو اخلاقی پستی کے ساتھ ہی تباہی اور بربادی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
|